(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی محکمہ آثار قدیمہ نے پرانے بیت المقدس شہر میں یونانی آرتھوڈوکس چرچ کی ملی بھگت سے شہر کے نہایت حساس مقام پر واقع اراضی پر ایک نیا پارک بنانے کے لیے کوششیں شروع کی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی محکمہ آثار قدیمہ کی جانب جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس نے یونانی آرتھوڈوکس چرچ کی اجازت کے بعد پرانے بیت المقدس میں ایک نئے پارک کی تیاری شروع کی ہے۔ جلد ہی اس منصوبے کے لیے کھدائی شروع کی جائے گی۔خیال رہے کہ اسرائیلی محکمہ آثار قدیمہ بیت المقدس میں جس مقام پر یہودیوں کا تاریخی پارک بنانے کے لیے کوشاں ہے وہ فلسطینی اوقاف کا حصہ سمھجی جاتی ہے تاہم فی الحال اس جگہ پر یونانی آرتھوڈوکس چرچ کا قبضہ ہے۔
مقامی فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ یونای چرچ کی جانب سے تاریخی پارک کے قیام کےلیے پانچ دونم کی اراضی اسرائیلی محکمہ آثار قدیمہ کو دی گئی ہے جہاں بیت المقدس ڈویلپمنٹ اتھارٹی نامی ادارہ ایک نیا پارک تعمیر کرے گا۔
قدرت کے حسین مناظرپر مشتمل اس مقام میں یہودی سیاحوں کے لیے ایک تاریخی سیرگاہ بھی بنائی جائے گی۔ اس کے علاوہ پارک کو یہودیوں کے تاریخی مقامات کے مطابق تیار کرکے بیت المقدس پرقبضے کو وسعت دینے کی سازشوں کوآگے بڑھایا جائے گا۔
