مقبوضہ مشرقی القدس کے الخضر ٹاؤن میں یہودی آباد کاری اور نسلی امتیاز کی مظہر دیوار کے خلاف سرگرم قومی کمیٹی کے ڈائریکٹر احمد صلاح کا کہنا ہے کہ الخضر ٹاؤن اور اس کے نواحی قصبوں اور دیہاتوں میں فلسطینیوں کی اراضی کو ہتھیانے کا سلسلہ جاری ہے۔
الخضر ٹاؤن کے علاقے خلۃ العین، جو جبلیہ چوٹی پر واقع ہے، کی اراضی پر ایک بڑی عمارت کی تعمیر کا کام شروع ہوگیا ہے۔ یہ عمارت یہودیوں کی بڑی عبادت گاہ کے طور پر قائم کی جارہی ہے۔ احمد صلاح نے بتایا کہ انہوں نے پیر کی شام اس مقام کا دورہ کرکے جاری کام کا مشاہدہ کیا تو اندازہ ہوا کہ عمارت تقریبا ایک ہزار مربع میٹر زمین پر تعمیر کی جائے گی۔ اس مقام پر ٹرکوں اور دیگر تعمیراتی مشینری موجود ہے۔ کام کرنے والے درجنوں مزدور بھی صلاح خاندان کی اس زمین پر تعمیراتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
ادھر یہودی آباد کاروں نے شہرکے ایک علاقے ”خلۃ الفحم” میں یہودی بستی الیعازر کے قریب ایک کمرہ تعمیر کرنا شروع کردیا ہے۔ اس کمرے کو قدیم پتھروں سے تعمیر کیا جارہا ہے۔ اس کی تعمیر میں جمالیاتی ذوق کا حد درجہ اہتمام کیا جارہا ہے۔ یہودیوں کا خیال ہے کہ یہ مقام تاریخی آثارپرمشتمل ہے۔ خواتین کی ایک انتہاء پسند یہودی تنظیم کی عہدیدار نادیا مطر کا کہنا ہے کہ اس مقام پر ہزاروں سال قبل یہودی بستے تھے، جس کے متعدد آثار موجود ہیں لہذا اس مقام کو دوبارہ یہودیوں کے لیے بحال کرنا چاہیے۔
حمد صلاح نے منگل کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ یہودیوں کی جانب سے اس طرح کی کارروائیاں صرف الخضر ٹاؤن میں نہیں ہو رہیں بلکہ اس کے اطراف کے متعدد دیہاتوں اور بیت لحم کے جنوبی علاقوں میں بھی ہر جگہ پر یہودی آباد کاری کے منصوبے جاری ہیں، شرقا، غربا اور شمال، جنوب، چاروں اطراف یہودی آبادکاری کے منصوبے بلا روک ٹوک جاری ہیں، ان تمام منصوبوں میں اسرائیلی فوج اسرائیلی حکومت اور یہودی آبادکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ فلسطینی اپنے اراضی سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ تعمیرات دراصل ”وسیع القدس” منصوبے کا حصہ ہیں، اس منصوبے میں بیت لحم کی اراضی کی بڑی مقدار بھی شامل کرلی جائے گی۔ ان کاکہنا تھا کہ جس زمین پر ایک بڑا کنیسہ قائم کیا جارہا ہے وہ نضال مرزوق نامی فلسطینی کی زیر ملکیت ہے اور سن 2000ء میں ان سے یہ اراضی خالی کروا لی گئی تھی اور اب انہیں اس زمین کی طرف آنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ قبضے کو تیرہ سال ہو چکے ہیں۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
