اسرائیلی حکومت نے القدس میں مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام مسجد اقصی کیخلاف اپنی نئی مہم شروع کرتے ہوئے پورے شہر میں قبلہ اول کی جگہ ھیکل سلیمانی کی موجودگی اور تاریخ پر مبنی علامات اور اشتہارات تقسیم کیے ہیں
القدس امور کے تجزیہ کار فخری ابودیاب نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے مسجد اقصی کی جنوبی دیوار سے چند میٹر دور سلوان کالونی کے شمالی حصے میں ایسے بینرز اور علامات نصب کردی ہیں جو قبلہ اول کی جگہ ھیکل سلیمانی کو ظاہر کر رہی ہیں، ان اشتہارات و بینرز میں مسجد اقصی کی جگہ پر ھیکل سلیمانی کی تاریخ درج ہے۔ عبرانی زبان میں پھیلائے جانے والے ان اشتہارات میں ظاہر کیا گیا ہے کہ اس علاقے میں ھیکل سلیمانی موجود تھا۔
القدس امور کے تجزیہ کار فخری ابودیاب نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے مسجد اقصی کی جنوبی دیوار سے چند میٹر دور سلوان کالونی کے شمالی حصے میں ایسے بینرز اور علامات نصب کردی ہیں جو قبلہ اول کی جگہ ھیکل سلیمانی کو ظاہر کر رہی ہیں، ان اشتہارات و بینرز میں مسجد اقصی کی جگہ پر ھیکل سلیمانی کی تاریخ درج ہے۔ عبرانی زبان میں پھیلائے جانے والے ان اشتہارات میں ظاہر کیا گیا ہے کہ اس علاقے میں ھیکل سلیمانی موجود تھا۔
فلسطینی تحقیق کار نے بتایا کہ اسرائیلی حکومت کا حالیہ اقدام القدس کے تاریخی مقامات کی اسلامی اور فلسطینی تاریخ کو مسخ کرنا ہے، اس مہم کا مقصد اس تاریخی شہر میں آنے والے دنیا بھر کے سیاحوں اور رہنماؤں کے سامنے اس شہر کو عبرانی اور یہودی شہر بنا کر پیش کرنا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ اسرائیلی حکومت القدس کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ یہودیوں کے اسکالرز اور سائنسدان اپنی دہائیوں کی تحقیق کے بعد اس علاقے میں یہودی آثار کی عدم موجودگی کا اعلان کر چکے ہیں مگر صہیونی حکومت مسلسل دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ایسے اقدامات اٹھاتی رہتی ہے۔
