فلسطینی علماء کی کمیٹی ’’رابطہ علماء فلسطین‘‘ نے فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے عرب اور اسلامی ممالک کے قائدین سے القدس کا رخ کرنے کی اپیل مسترد کیے جانے کے قابل ہے۔ اس مہم میں شرکت کا مطلب اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے۔
رابطہ علمائے اسلام کے سربراہ سالم سلامہ نے خبر رساں ایجنسی ’’قدس پریس‘‘ کو بتایا کہ صدر محمود عباس کا مسلمان قائدین کو مسجد اقصی اور بیت المقدس کے دورے پر بلانا قابل رد ہے کیونکہ ایسا کرنا خفیہ نہیں بلکہ اعلانیہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔
شیخ سالم سلامہ نے زور دیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے پاس کس یبھی عرب قائد یا عام شخص کو مقبوضہ فلسطین کی حدود میں آنے کی اجازت دینے اہلیت ہی نہیں ہے کیونکہ یہ علاقے اسرائیلی زیر تسلط ہیں۔ گویا عرب قائدین کے یہ دورے اسرائیل کی اجازت سے ہونگے۔ ظاہر ہے اسرائیل سے ویزے کے حصول کا مطلب فلسطینی اراضی پر اس کے تسلط کو تسلیم کرنا ہو گا۔
’’عالمی کانفرنس برائے دفاع القدس’’ کی تجاویز پر اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل سے القدس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے رجوع کرنے پر شیخ سلامہ کا خیال تھا کہ ان حالات میں ایسے کسی اقدام کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

