انٹرنیشنل القدس فاؤنڈیشن نے مقبوضہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کے کو چھیالیس سال مکمل ہونے پر ایک عالمی مہم کا اعلان کیا ہے۔ سات جون کو شروع کی جانے والی اس مہم کا عنوان ”القدس، کبھی یروشیلم نہیں بنے گا” رکھا گیا ہے۔ فاؤنڈیشن نے اس موقع کی مناسبت سے القدس کی حمایت کی اپیل کی اور کہا کہ یاد رکھا جائے کہ اسرائیل نے القدس کی عرب اور اسلامی شناخت کو مسخ کرنے اور اسے یہودی رنگ میں رنگنے کی کوششوں کے دوران یہاں کے کسی کسی پتھر اور کسی درخت کو نہیں چھوڑا۔
فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل یاسین حمود نے گزشتہ روز ایک عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم کا مقصد چھیالس سال قبل مغربی القدس کے ساتھ ساتھ مشرقی القدس پر اسرائیلی قبضے پر روشنی ڈالنا اور القدس کے معاملے کو سیاست اور میڈیا کے ایوانوں میں لے جانا، اور عرب اور اسلامی دنیا کو القدس کی مادی اور معنوی مدد کرنے پر ابھارنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مہم کے ذریعے القدس کے مسئلے کو عالمی مسئلہ بنایا جائے گا اور اس شہر کی سیاسی، تاریخی اوردینی حیثیت کو امت مسلمہ میں راسخ کیا جائے گا۔ یہ مہم دراصل اس شہر کو یہودی رنگ میں رنگنے کی اسرائیلی مہم کے مقابلے میں القدس کی اصل حیثیت برقرار رکھنے کی مہم ہے۔
یاسین حمود نے امت مسلمہ سے اس مقدس شہر کے تحفظ کے لیے بھرپور مادی و معنوی مدد کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ القدس شہر کے تحفظ اور اسے یہودی دارالحکومت بنانے کی اسرائیلی کوششوں کے آگے بند باندھنے کی ذمہ داری عرب اور اسلامی دنیا پر عائد ہوتی ہے۔ آج دنیا بھر میں مختلف قومیتوں پر مشتمل مسلمانوں کو القدس کی عرب اور اسلامی شناخت کی حفاظت کے چیلنج کا سامنا ہے۔
دوسری جانب القدس فاؤنڈیشن کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ شیخ حمید بن عبداللہ الاحمر نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا اور کہا کہ مسجد اقصی پر انتہاء پسند یہودی حملے کر رہے ہیں اور اس گنبد صخرہ کی جگہ اپنی عبادت گاہ کی تعمیر کا خواب پورا کرنے کے لیے یہاں پر یہودی حق کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہودیوں کے مسجد اقصی پر دھاوے دراصل مسلمانوں کے قبلہ اول کو زمانی اعتبار سے یہودیوں اور مسلمانوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔
الاحمر نے عرب اور اسلامی دنیا کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ یہودیوں کے ان حملوں کی مخالفت پر مبنی اپنے موقف کا دوٹوک انداز میں اظہار کریں، اور القدس کی عرب اور اسلامی شناخت کی حفاظت کے لیے ایک جامع حکمت عملی مرتب کریں۔ اسی طرح اہالیان القدس کو اسرائیلی حکومت سے درپیش خطرات کا قلع قمع کرنے کے لیے بھی واضح پالیسی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ القدس کی مدد و نصرت کے لیے عالم اسلام کو سیاسی، ثقافتی اور ذرائع ابلاغ، ماحولیات اور ترقی کے محاذوں پر جکمت عملی بنانا ہوگی۔
مصر میں القدس فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر حازم فاروق نے انٹرنیشنل القدس فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی قاھرہ میں میٹنگ اور پھر انقلاب کے بعد یہاں پر میڈیا کانفرنس کی اہمیت پر روشنی ڈالی، انہوں نے کہا کہ عرب اور اسلامی قوموں کو چاہیے کہ وہ تمام عالمی تنظیموں اور عرب ایسوسی ایشنز کو باور کرائیں کہ اب باتیں کرنے کا نہیں بلکہ عمل کا وقت آگیا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
