مقبوضہ مشرقی القدس میں فلسطینیوں کے پتھراؤ کی زد میں آکر ایک خاتون اسرائیلی فوجی زخمی ہوگئی۔ عبرانی ویب سائٹ ’یشع‘ کے مطابق نامعلوم
افراد نے مسجد اقصی کے العامود دروازے کے قریب کھڑے اسرائیلی پولیس کے ایک گروپ پتھراؤ کردیا جس سے ایک خاتون اہلکار زخمی ہو گئی۔ اسرائیلی خاتون پولیس اہلکار کے سر پر زخم آئے جس کے بعد صہیونی ایمرجنسی سروسز کے اہلکاروں نے اسے علاج کے لیے ہسپتال منتقل کردیا۔
دوسری جانب القدس کے ذرائع نے بتایا کہ صہیونیوں کی ایک بس پر پٹرول بم برسائے گئے جس سے بس کو شدید نقصان پہنچا تاہم اس حملے میں کئی صہیونی آباد کار کے زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، ادھر الخلیل کے قریب بھی غاصب یہودی آباد کاروں کی گاڑیوں پر پیرکی شام پتھراؤ کیا جاتا رہا۔ صہیونی ذرائع نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی نوجوانوں نے غاصب یہودی آباد کاروں کی گاڑی پر اس وقت پتھراؤ کیا جب وہ الخلیل کے شمالی علاقے حلحول سے گزر رہی تھی تاہم اس پتھراؤ سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا، اسی طرح غوش عتصیون نامی یہودی بستی کے قریب سے گزرنے والی ایک بس پر بھی پتھراؤ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس پتھراؤ کے سبب بس کے کھڑکیاں ٹوٹنے گئیں۔ پتھراؤ کے واقعات کے بعد اسرائیلی سکیورٹی فورسز علاقے میں پھیل گئی ہیں اور جگہ جگہ چیک پوسٹیں قائم کرکے شہریوں کی تلاشی لینا شروع کردی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
