مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی وزارت داخلہ کی جانب سے وزیرداخلہ گیلاد ارڈان کے دستخطوں سے جاری ایک تازہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت سمجھتی ہے کہ الشیخ رائد صلاح کے موجودہ حالات میں بیرون ملک سفر کی اجازت دینے سے اسرائیل کی سلامتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی خدشے کے پیش نظر الشیخ رائد صلاح کے بیرون ملک سفر کے سابقہ فیصلے کی مزید توسیع کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ الشیخ رائد صلاح کے خلاف اسرائیل کی انتقامی کارروائیوں میں ان کے بیرون ملک سفر پابندی کا ظالمانہ فیصلہ بھی شامل ہے۔ ان پر یہ پابندی اس لیے لگائی جا رہی ہے تاکہ وہ بیرون ملک مسجد اقصیٰ اور مسلمانوں کے قبلہ اول کے دفاع کے لیے آواز بلند نہ کرسکیں۔ صہیونی ریاست کی جانب سے صرف الشیخ رائد صلاح کی ذات کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایا جا رہا ہے بلکہ ان کی جماعت اسلامی تحریک پر بھی پابندیاں عاید کرنے کی سازشیں تیار کی جا رہی ہیں۔
الشیخ صلاح کا رد عمل
اسرائیلی حکومت کی جانب سے کیے گئے فیصلے کے رد عمل میں بزرگ فلسطینی لیڈر الشیخ رائد صلاح نے اپنے رد عمل میں کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اسرائیلی وزارت داخلہ کے اس فیصلے کے کیا محرکات ہیں۔ اگر اسرائیل کا بس چلے تو وہ میرے جسم کا بھی محاصرہ کرے۔ وہ مجھے تو بیرون ملک سفر سے روک سکتا ہے لیکن میری آواز کو تو نہیں روک سکتا۔ میں جہاں بھی ہوں گا قبلہ اول کے دفاع کے لیے عرب اور مسلمان امہ کو پکارتا رہوں گا۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی ریاست کی پابندیاں اور ظالمانہ اقدامات مجھے دفاع مسجد اقصیٰ، فلسطینیوں کی آزادی کی حمایت اور حق کے لیے آواز بلند کرنے سے نہیں روک سکتے۔ میرے نزدیک اسرائیلی فیصلوں کی کوئی حیثیت نہیں میں انہیں پاوں کی ٹھوکر رسید کرتا ہوں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
