• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

الشیخ رائد صلاح نے ہتک عزت مقدمہ میں اپنا مفصل بیان ریکارڈ کرا دیا

پیر 24-02-2014
in فلسطین
0
plf sheikh
0
SHARES
0
VIEWS

فلسطین کے بزرگ سیاسی و مذہبی رہ نماء سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی نمائندہ تنظیم”اسلامی تحریک” کے امیر الشیخ رائد صلاح نے صہیونی پولیس کے ہاتھوں ہتک عزت کے مقدمہ میں اپنا مفصل بیان ریکارڈ کرا دیا۔

 

اتوار کے روز بیت المقدس میں قائم اسرائیلی مجسٹریٹ عدالت میں شاہ حسین پُل پر صہیونی انٹیلی جنس چیف، الشیخ رائد صلاح اور ان کی اہلیہ کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا۔ صہیونی انٹیلی جنس عہدیدارنے اپنا بیان تفصیل کے بجائے اجمالا اپنا بیان ریکارڈ کرایا جب کہ الشیخ رائد صلاح نے صہیونی پولیس کے ہاتھوں اپنی اور اہلیہ کی مبینہ توہین سے متعلق مکمل تفصیلات فراہم کیں۔

انسانی حقوق کے ادارے "المیزان” کی رپورٹ کے مطابق الشیخ رائد صلاح کو16 اپریل 2011ء کے ایک مقدمہ میں اپنا موقف بیان کرنے کے لیے طلب کیا گیا

اس مقدمہ کے پچھلی سمات 11 دسمبر2013ء کو ہوئی تھی جس میں پانچ پولیس اہلکاروں نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔ تازہ سماعت میں الشیخ رائد صلاح اور ان کی اہلیہ کو اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ یہ کیس سنہ 2011ء کو الشیخ رائد صلاح اور ان کی اہلیہ کی عمرہ سے اردن کے راستے واپسی پر اسرائیلی پولیس کی جانب سے ان کے ساتھ بدسلوکی کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ الشیخ رائد صلاح کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سنہ 2011ء میں وہ عمرہ کی ادائی سے واپس فلسطین داخل ہو رہے تھے جب صہیونی بارڈر پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کا مظاہرہ کیا تھا۔ دونوں میاں بیوی نے صہیونی پولیس کی غنڈہ گردی کےخلاف احتجاج کیا تو پولیس نے انہیں احتجاج کی پاداش میں ایک حراستی مرکزمیں بند کر دیا تھا۔

بعد ازاں الشیخ رائد صلاح نے صہیونی عدالت میں اپنے ساتھ برتی جانے والی بدسلوکی پر اسرائیلی عدالت میں قابض فوج کے خلاف ایک مقدمہ دائر کر دیا تھا۔

ذرائع کے مطابق صہیونی انٹیلی جنس عہدیدار نے عدالت کو بتایا کہ انہیں الشیخ رائد صلاح اور ان کی اہلیہ کی اردن سے واپسی کی خبرتھی لیکن ہمیں بتایا گیا کہ الشیخ صلاح اور ان کی اہلیہ کی تفتیش ناگزیر ہے، کیونکہ ان کے قبضے میں کوئی مشتبہ چیز ہو سکتی ہے۔ ہم نے تفتیش کی مگر کوئی قابل ذکر چیز برآمد نہیں ہو سکی۔

بعد ازاں الشیخ رائد صلاح نے اپنی تفصیلی بیان میں عدالت کو بتایا کہ جب وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ شاہ حسین پل عبور کر کے مقبوضہ فلسطین میں داخل ہوئے تو گذرگاہ پر متعین صہیونی پولیس اہلکاروں اور فوجیوں نے ان کی ایک ایک چیز کی جامہ تلاشی لی۔ انہیں نیم عریاں کیا گیا اور اہلیہ کے ساتھ نہایت بداخلاقی اور بدتمیزی کا مظاہرہ کیا گیا۔ الشیخ رائد صلاح کاموقف سننے کے بعد عدالت نے مقدمہ کی اگلی سماعت 20 مارچ تک ملتوی کر دی۔

عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسرائیلی عدالت سے انصاف کی کوئی توقع نہیں ہے، کیونکہ یہ عدالتیں ہماری مرضی کی نہیں بلکہ ہم پرمسلط کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے عدالت میں واضح طور پر بتا دیا کہ صہیونی فوجیوں نے ان کے عمرہ سے واپسی شاہ حسین پل پر ذلت آمیز سلوک کیا۔ اسرائیلی پولیس افسر کی جانب سے بھی عدالت کو بتایا گیا کہ تلاشی کے دوران انہیں کوئی مشکوک چیز نہیں ملی اس کے باوجود عدالت نے کیس کو ایک ماہ کے لیے موخر کر دیا ہے۔

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.