فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں اسرائیل کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے ممتاز فلسطینی سیاسی و مذہبی رہ نما الشیخ رائد صلاح کو16 اپریل 2011ء کے ایک مقدمہ میں اپنا موقف بیان کرنے کے لیے پرسوں اتوار کے روز طلب کیا ہے۔
انسانی حقوق کے ادارے”المیزان” کی رپورٹ کے مطابق اس مقدمہ کے پچھلی سمات 11 دسمبر2013ء کو ہوئی تھی جس میں پانچ پولیس اہلکاروں نے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔ دو دون بعد ہونے والی سماعت میں الشیخ رائد صلاح اور ان کی اہلیہ کو اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ یہ کیس سنہ 2011ء کو الشیخ رائد صلاح اور ان کی اہلیہ کی عمرہ سےاردن کے راستے واپسی پر اسرائیلی پولیس کی جانب سے ان کے ساتھ بدسلوکی کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ الشیخ رائد صلاح کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سنہ 2011ء میں وہ عمرہ کی ادائیگی سے واپس فلسطین داخل ہو رہے تھے جب صہیونی بارڈر پولیس اہلکاروں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کا مظاہرہ کیا تھا۔
دونوں میاں بیوی نے صہیونی پولیس کی غنڈہ گردی کے خلاف احتجاج کیا تو پولیس نے انہیں احتجاج کی پاداش میں ایک حراستی مرکز میں بند کر دیا تھا۔
بعد ازاں الشیخ رائد صلاح نے صہیونی عدالت میں اپنے ساتھ برتی جانے والی بدسلوکی پر اسرائیلی عدالت میں قابض فوج کے خلاف ایک مقدمہ دائر کر دیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
