برطانیہ میں انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم نے بھوک ہڑتالی اسیر محمود السرسک کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 25 سالہ نوجوان کو زیر حراست پہنچنے والے کسی بھی نقصان کا ذمہ دار اسرائیل ہو گا۔
انسانی حقوق کے تحفظ کے لئےبرطانیہ میں سرگرم عرب تنظیم نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے "اساف ہاروفیہ” اہسپتال کے توسط سے ملنے والی معلومات کے مطابق گزشتہ 88 دنوں سے بھوک ہڑتال کرنے والے نوجوان اسیر محمود السرسک کی صحت انتہائی بگڑ چکی ہے۔ تنظیم کے بہ قول نوجوان اسیر کی انتہائی خراب صحت کا ذمہ دار اسرائیل ہے کہ جو السرسک کی رہائی میں مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے۔
انسانی حقوق کی عرب تنظیم نے یورپی یونین اور انسانی حقوق کی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صہیونی جیلوں میں ہونے والی انسانی حقوق کی کارروائیوں کی تحقیقات کے لئے وفد تشکیل دیں کیونکہ تل ابیب قیدیوں کے ساتھ طے پانے والے کسی بھی معاہدے کو خاطر میں نہیں لا رہا ہے تنظیم نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو مجبور کریں کہ وہ اپنی جیلوں میں قید تمام بیمار اسیروں کو رہا کرے اور دوسرے قیدیوں کے حقوق کا جنیوا کنونشن کی روشنی میں احترام کرے
