فلسطین میں مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں نے آج اتوار کو ملک بھرمیں اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔
یہ احتجاجی مظاہرے مسجد اقصیٰ سے ملحقہ مسلمانوں کے تاریخی قبرستان‘‘الرحمہ’’ کی اٹھارہ سول کنال اراضی ہتھیانے اور اسے یہودی تفریح گاہ کے لیے استعمال کرنے کےخلاف کیے جا رہے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق آج اتوار کے روز مقبوضہ بیت المقدس، مغربی کنارے اور شمالی فلسطین کے شہروں میں الرحمۃ قبرستان کی زمین ہتھیانے کےخلاف احتجاجی مظاہرے اور جلسے جلوس نکالے جائیں گے۔
قابض ٓصہیونی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس پرقابض صہیونی ضلعی حکومت کے ساتھ مل کرمسجد اقصیٰ سے ملحقہ مسلمانوں کے تاریخی قبرستان‘‘الرحمہ’’ کی اٹھارہ سو کنال اراضی پرغاصبانہ قبضہ کرلیا ہے۔ دوسری جانب فلسطینیوں نے قابض فوج اور بیت المقدس کی یہودی انتظامیہ کی اس جارحیت کو اسلامی اوقاف اور مقدسات پر براہ راست حملہ قراردیا ہے۔
پی آئی سی کے مطابق بیت المقدس کی اسرائیلی میونسپل انتظامیہ نے صہیونی سپریم کورٹ سے کئی ماہ قبل الرحمہ قبرستان میں تعمیرات کے لیے ایک اجازت نامہ حاصل کرلیا تھا۔ اسرائیلی سپریم کورٹ نے فلسطینیوں کو قبرستان کے مشرقی حصے میں اپنے مُردوں کی تدفین سے بھی روک دیا تھا، تاہم فلسطینیوں نے عدالت میں فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں بھی دے رکھی ہیں اور فلسطینی شہری قابض صہیونی حکومت کی اس جارحیت کےخلاف مسلسل احتجاج بھی کرتے آئےہیں۔ ہفتے کے روز یہودی فوج اور صہیونی انتظامیہ نے الرحمہ قبرستان کے نشان زدہ مشرقی حصے میں تعمیرات کا کام شروع کردیا۔
دوسری جانب فلسطینی شہریوں نے صہیونی فوج اور قابض ضلعی انتظامیہ کی اس جارحیت کو اسلامی مقدسات پربراہ راست حملہ قرار دیا ہے۔ بیت المقدس میں فلسطینیوں کی مقامی سپریم کمیٹی کی طرف سے جاری ایک بیان میں قبرستان کی زمین کوغصب کرنے کے لیے اسے یہودی آباد کاروں کے تفریحی مقامات کے لیے استعمال کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قبرستان کی زمین غصب کرنا اسلامی مقدس مقامات اور اوقاف اسلامی پر براہ راست حملہ ہے اور فلسطینی اس پرخاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔ کمیٹی نے بیت المقدس کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے تاریخی قبرستان کو یہودیوں کی دست بردس سے بچانے کے لیے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں۔
خیال رہے کہ الرحمہ قبرستان بیت المقدس ہی نہیں بلکہ پورے فلسطین کا تاریخی قبرستان ہے جس میں کئی صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور دیگر بزرگان دین کی قبریںبھی موجود ہیں۔ اسرائیلی فوج نے قبرستان کا ایک حصہ پہلے ہی مسمار کردیا تھا۔ اب دوسرے حصے کو بھی ملیا میٹ کیے جانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
