جبالیا کی اسلامک سوسائٹی نے ملیشیا کی تنظیم ’’الاقصی فاؤنڈیشن‘‘ کے ساتھ ایک مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت غزہ میں گیارہ لاکھ پچاس ہزار ڈالرز کی لاگت
سے تکنیکی پیشہ وروں اور دستکاری کی صنعتوں کے لیے ایک صنعتی گاؤں تعمیر کیا جائیگا۔یادداشت پر دستخط کے لیے ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں اسلامک سوسائٹی کے سربراہ انجینئر عبدالرحیم شہاب اور الاقصی فاؤنڈیشن ملیشیا کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن محمد طاہر بن عبد الرحمان نے دستخط کیے۔ اس موقع پر فلسطین کی معروف تعلیمی شخصیات، اراکین پارلیمان اور سماجی تنظیموں کے رہنما بھی موجود تھے۔
اس موقع پر انجینئر عبد الرحیم شھاب نے کہا کہ اسلامک سوسائٹی فلسطینی معیشت کی ترقی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ غزہ کی پٹی میں مستقل ترقی کے اہداف کے لیے سوسائٹی ہر ممکن اقدام کریگی۔ ان کا کہنا تھا کہ قائم کیے جانے والے صنعتی گاؤں میں اسرائیل کی جانب سے تباہ کی جانے والی صنعتوں کے متبادل صنعتیں لگائی جائیں گی۔
اس موقع پر الاقصی فاؤنڈیشن ملیشیا کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن ڈاکٹر محمد زین بن کندر نے غزہ کی پٹی کے فلسطینیوں کی ثابت قدمی کو سراہا اور اور فلسطینی اور ملیشین قوم کے درمیان رابطے کے کام سرانجام دینے پر اسلامک سوسائٹی کا شکریہ ادا کیا۔ خیال رہے کہ پانچ ایکڑ پر محیط اس صنعتی زون میں بانس، ایلمونیم اور لکڑی کی صنعتوں کو فروغ دیا جائے گا، اس انڈسٹریل ایریا میں فلسطینیوں کے لیے مختلف شعبوں کے تربیتی پروگرام بھی منعقد کیے جائیں گے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

