اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمیشن کے مندوب برائے مشرق وسطیٰ و فلسطین رچرڈ فولک نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ زیرحراست فلسطینی بھوک ہڑتالی
قیدی شیخ خضرعدنان کی فوری رہائی کا حکم دے۔ انہوں نے دو ماہ سے بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی اسیر کی زندگی کو درپیش خطرات پر گہری تشویش کا بھی اظہار کیا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اقوام متحدہ کے مندوب برائے فلسطینی امور رچرڈ فولک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی جیل عوفرمیں زیرحراست فلسطینی اسیر شیخ خضر عدنان کی طبی حالت نہایت تشویشناک ہے اوران کی رہائی کے لیے عالمی مداخلت کی فوری ضرورت ہے۔
یو این مندوب بے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شیخ عدنان کی رہائی کے لیے اسرائیل پردباؤ ڈالے ورنہ فلسطینی اسیرکی زندگی خطرے میں پڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیخ عدنان گذشتہ دو ماہ سےبھوک ہڑتال پرہیں اور اب ان کی زندگی سخت خطرے سے دوچار ہے۔ اس پر اسرائیل کی جانب سے عائد الزامات کے تحت نہ صرف تشدد جاری رکھا ہوا ہے بلکہ مریض اسیر کے علاج معالجے میں بھی تساہل برتا جا رہا ہے۔
رچرڈ فولک نے صہیونی حکومت سےمطالبہ کیا کہ وہ جیل میں ڈالے گئے فلسطینی اسیر کی رہائی کا فوری حکم دے اور تمام فلسطینی اسیران کے معاملے میں بین الاقوامی مسلمہ اصولوں اور قوانین کی سختی سے پابندی کرے۔
خیال رہے کہ چونیتس سالہ فلسطینی اسیر شیخ خضرعدنان نے دو ما ہ پیشتر اپنی بلا جواز گرفتاری اور دوران حراست تشدد کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ اسیر کی یہ بھوک ہڑتال گذشتہ دسمبر سے جاری ہے اوراب اسے دو ماہ ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے شیخ عدنان پر اسلامی جہاد سے تعلق کےالزام کے تحت تفتیش شروع کر رکھی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

