اقوام متحدہ میں فلسطین کو مبصر ریاست کی حیثیت دے دی گئی ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کی حمایت میں 138 ووٹ ڈالے گئے
جبکہ 9 نے مخالفت کی۔ 41 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ امریکہ، اسرائیل اور کینیڈا نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ جنرل اسمبلی اراکین نے
فلسطین کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں مبصر ریاست کی حیثیت دے دی۔ اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
دیگر ذرائع کے مطابق فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دینے کیلئے 193 ممالک کی تنظیم میں سادہ اکثریت کی ضرورت تھی۔ امریکہ اور اسرائیل کی مخالفت کے باوجود اکثر اراکین نے فلسطین کا ساتھ دیا اور بالآخر کئی برس کی محنت کے بعد محمود عباس کو تاریخی فتح حاصل ہوئی۔ اس منظوری کے بعد اقوام متحدہ کے ممالک نے فلسطین کو بالواسطہ طور پر مغربی کنارے، مشرقی بیت المقدس اور غزہ کی پٹی پر مبنی ریاست تسلیم کر لیا ہے۔ فلسطین کو جنرل اسمبلی میں ووٹ کا حق تو حاصل نہ ہوگا لیکن اب فلسطینی حکام اقوام متحدہ کی مختلف ایجنسیوں میں نمائندگی حاصل کرسکیں گے۔ ایک اہم پیش رفت یہ بھی ہے کہ اب فلسطین کو انٹرنیشنل کرمنل کورٹ تک رسائی حاصل ہوگی اور فلسطینی جنگی جرائم کیلئے عالمی عدالت سے رجوع بھی کرسکیں گے۔ قراداد کی حمایت میں 139 جبکہ مخالفت میں صرف نو ووٹ پڑے۔ 41 ممالک نے ووٹنگ میں شرکت نہیں کی۔
فلسطین کو اقوام متحدہ میں نمائندگی ملنے پر ملک بھر میں جشن شروع ہوگیا، ہزاروں افراد سڑکوں پر رات بھر رقص کرتے رہے۔ ووٹنگ سے قبل فلسطین میں جگہ جگہ سڑکوں پر بڑی بڑی اسکرینیں نصب کی گئی تھیں۔ ہزاروں افراد کئی گھنٹوں سے اس اہم موقع کا انتظار کر رہے تھے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی جانب سے فلسطین کے حق میں دو تہائی اکثریت ملنے کا اعلان کیا تو دنیا بھر کے فلسطینیوں میں خوشی کی لہر ودڑ گئی۔ غزہ، رملہ، مقبوضہ بیت المقدس سمیت فلسطین کے مختلف شہروں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ فلسطینی جھنڈے اٹھائے لوگ کہیں سجدے میں گر گئے تو کہیں مٹھائیاں تقسیم کرتے رہے۔ لوگ دیوانہ وار خوشی سے سڑکوں پر رقص کرتے رہے۔ کئی دہائیوں سے مظالم کی چکی میں پستے فلسطینیوں کے مرجھائے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔ غم سے نڈھال قوم کو کئی برس بعد خوشی نصیب ہوئی تو لوگ جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ صرف فلسطین ہی نہیں، امریکہ، یورپ اور ایشیا میں ہجرت کرنے والے فلسطینیوں نے بھی خوشی کا بھرپور اظہار کیا۔
ادھر امریکہ نے اقوام متحدہ میں فلسطین کی تاریخی فتح کو بے سود قرار دے دیا، وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کہتی ہیں کہ اس سے پیچیدہ مسئلہ مزید سنگین ہو جائے گا۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ میں فلسطین کی قرارداد کی منظوری خطے میں امن کیلئے مہلک ثابت ہوسکتی ہے، اس کی وجہ سے امن کا قیام مزید مشکل ہوگیا ہے۔ امریکہ صرف دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کا قائل ہے۔
امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔ اسرائیلی حکومت کے ترجمان مارک ریگیو کا کہنا ہے کہ قرارداد کی منظوری تاریخ کا سیاہ دن ہے۔ یورپی یونین نے فلسطین سے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حماس نے قرارداد کی بھرپور حمایت کی ہے اور اسے فلسطین کی تاریخی فتح قرار دیا ہے۔ پی ایل او اور صدر محمود عباس نے قرداد کی منظوری کو اپنی جماعت کی 45 سالہ محنت کا ثمر قرار دیا ہے۔ آج کی ووٹنگ میں امریکہ اور اسرائیل کے علاوہ چیک ری پبلک، پناما، مارشل آئر لینڈز اور کینیڈا سمیت 9 ممالک نے قرار داد کی مخالفت کی۔ برطانیہ، ہالینڈ، البانیا، آسٹریلیا، بوسنیا، جرمنی، ہیٹی، جنوبی کوریا، رومانیا، سنگاپور، ہنگری، سمیت 41 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قبل ازیں فلسطین کے صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ فلسطین کو برتھ سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے محمود عباس کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جارحیت نے عالمی برادری کو فلسطین کے ساتھ لاکھڑا کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں ووٹنگ اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے کے حل کا آخری موقع ہے۔
