فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا ہے کہ وہ فلسطین میں اسرائیل کے ناجائز قبضے کے خاتمے کے لیے سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
اس قرارداد کی تیاری میں کم سے کم تین ہفتے لگیں گے تاہم سلامتی کونسل میں اس پر رائے شماری کی کوئی گارنٹی نہیں دی جا سکتی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں صدر محمود عباس نے بتایا کہ سلامتی کونسل میں پیشی کے لیے تیار کی جانے والی مجوزہ قرارداد میں فلسطین کو اقوام متحدہ کا ایک غیر مستقل مبصر رکن تسلیم کرنے کا بھی مطالبہ کیا جائے گا۔ رواں ماہ کے آخر ہی میں اس قرارداد پر رائے شماری کرانے کی بھی کوشش کی جائے گی۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے پاس قرارداد پر رائے شماری کی کیا یقین دہانی ہے تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم قرارداد پر رائے شماری کی گارنٹی نہیں دے سکتے ہیں۔ اگر رائے شماری ہو بھی جاتی ہے تب بھی اسرائیل سے عرب علاقوں سے فوج کے انخلاء کی ڈیڈ لائن میں وقت لگے گا۔ گو کہ اسرائیل نے ماضی میں اس کا عندیہ ظاہر کیا لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سلامتی کونسل میں ہم اسرائیلی قبضے کےخلاف قرارداد منظور کرانے میں ناکام رہے تو اس کے بعد دیگر عالمی اداروں بالخصوص عالمی فوج داری عدالت کی طرف رجوع ہماری مجبوری ہو گی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
