مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سعودی عرب کےسرکاری میڈیا کی جانب سے جاری رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنیوا میں قائم انسانی حقوق کونسل میں جمعہ کے روز فلسطینیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور بنیادی حقوق کی حمایت پر مبنی قرارداد پیش کی گئی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سعودی سفیر فیصل بن حسن طراد نے فلسطینی قوم کے دیرینہ حقوق بالخصوص حق خود ارادیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آزاد فلسطینی ریاست کے ساتھ بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت نہیں بنایا جاتا اس وقت تک فلسطینی ریاست کا کوئی وجود نہیں ہوسکتا۔
سفیر طراد نے عالمی برادری بالخصوص اسرائیلی جرائم کےخلاف سرگرم ممالک پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی منظم ریاستی دہشت گردی کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کریں۔ نہتے فلسطینیوں کا قتل عام بند کرایا جائے اور فلسطینیوں کو بھی آزادی اور عزت کے ساتھ جینے کا حق دیا جائے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے زبان استعمال کرنے کے بجائے ان کے بنیادی حقوق تسلیم کرتے ہوئے انہیں حق خود ارادیت دے۔ آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کا اعلان کرے اور بیت المقدس پرقبضہ ختم کردے۔ قرارداد میں اسرائیل کی بلا جواز حمایت کرنے والے ممالک کی پالیسیوں کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ار کہا گیا کہ عالمی برادری فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان انصاف پرقائم نہیں رہ سکی ہے۔ عالمی برادری کی دانستہ خاموشی نے صہیونی ریاست کو فلسطینیوں کے حقوق غصب کرنے کا موقع اور حوصلہ فراہم کیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
