فلسطینی اسیران کے مطالعے کے لئے قائم سنٹر نے کہا ہے کہ جنین کے جنوب میں واقع عرابہ گائوں سے تعلق رکھنے والے اسیر 33 سالہ سامی عاریدی کی صحت حال ہی میں خراب ہوگئی ہے۔
اسیر کے بھائی نے انسانی حقوق سنٹر کو بتایا ہے کہ رہائی پانے والے اسیران میں سے ایک اسیر نے بتایا ہے کہ ان کے بھائی سامی کو علاج کی شدید ضرورت ہے۔
سامی عاریدی کو 14 سال قبل حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں 19 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ دس سال قبل سے سامی دل کے عارضے، سانس لینے میں مشکل اور سردرد کی شکایت رہتی ہے۔
عاریدی نے تمام انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں موجود بیمار فلسطینی اسیران کے معاملے کو دنیا کے سامنے لانے میں اپنا کردار ادا کریں اور ان کو رہائی دلوائیں۔
ایک اور واقعہ کے مطابق فلسطینی اسیران سوسائٹی نے بتایا ہے کہ الخلیل کے یطہ قصبے سے تعلق رکھنے والے اسیر 42 سالہ ابراہیم شواہن کو جمعرات کے روز بیمار ہوگئے تھے اور ان کو ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔
سنٹر کے ترجمان قہر ابو کمال نے کہا ہے کہ نفحہ جیل میں قید شواہن یطہ قصبے میں الفتح کے کچھ حمایتیوں میں سے ایک ہیں اور انہیں اس سے پہلے بھی درجنوں دفعہ اسرائیلی جیل میں حراست میں لیا گیا ہے اور وہ اب تک 11سال سے زیادہ عرصہ قید کی سزا کاٹ چکے ہیں۔
ابو کمال کے مطابق اسرائیلی حیل انتظامیہ نے بیت عمار سے تعلق رکھنے والے اسیر 19 سالہ محمد براغیث ایک اور اسیر سے دوائی لے کر کھانے کے بعد بیہوش ہوگئے اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔
اسی دوران رہائی پانے والے اسیر 40 سالہ محمد تاج جن کا تعلق طوباس کے علاقے سے ہے ان کے مقبوضہ یروشلم میں ایک ہسپتال میں مختلف مختلف ٹیسٹ ہوئے۔
قابض حکام نے اسیر تاج کو ابھی دو پفتہ پہلے ہی صحت کی خرابی کی وجہ سے رہا کیا تھا۔
تاج کو دس سال قبل حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں پندرہ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔ یہ سزا انہیں الاقصیٰ شہداء بریگیڈ کا ممبر ہونے اور قابض حکام کے خلاف مزاحمت کرنے کی پاداش میں دی گئی تھی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
