اسرائیل کی ایک جیل میں زیرحراست قید تنہائی کے شکار فلسطینی ضرار ابوسیسی کی قید تنہائی ختم نہ کرنے پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے صہیونی ریاست کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں نے اسیر ابوسیسی کے معاملے کو ٹال مٹول کی نذر کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صہیونی حکام جان بوجھ کو ابو سیسی کی تنہائی ختم نہیں کرنا چاہتے ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق کلب برائے اسیران فلسطین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صہیونی جیل انتظامیہ ضرار ابوسیسی کی قید تنہائی ختم کرنے میں حیلے بہانے کر رہی ہے۔ صہیونی حکام کی جانب سے ابوسیسی کے معاملے میں لاپرواہی برتنا عقل اور انسانی ضمیر کے لیے ناقابل قبول ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ محروس فلسطینی ضرار ابوسیسی کی طویل قید تنہائی کے باعث صحت بری طرح بگڑ چکی ہے۔ حالت نازک ہونے کے علی الرغم صہیونی جیلر اسیر کی قید تنہائی ختم کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ضرار ابوسیسی کی گرفتاری اور اس کے بعد اس کے ساتھ ہونے والا ظالمانہ سلوک انسانی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔ تنظیم صہیونی حکام کے اس ظالمانہ رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ضرار ابوسیسی کی قید تنہائی فوری طور پر ختم کرنے اور انہیں دوسرے قیدیوں کے ساتھ شامل کرنے کا پرزور مطالبہ کرتی ہے۔
خیال رہے کہ صہیونی حکام نے یوکرائن کی ملی بھگت سے ضرار ابوسیسی کو دو سال قبل یوکرائن کے ایک شہر سے حراست میں لیا تھا۔ ضرار ابوسیسی فلسطینی شہرغزہ کی پٹی سے تعلق رکھتا ہے۔ اسرائیلی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ ضرار فلسطینی مزاحمت کاروں کو اسلحہ کی تیاری میں مدد کرتا رہا ہے جبکہ ضرار کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کا موکل غزہ کی پٹی میں ایک الیکٹریکل فرم میں انجینیئر کے طور پر خدمات انجام دیتا رہا ہے جس کا مزاحمت کاروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
