اسرائیلی جیلوں میں قید درجنوں اسیران نے رام اللہ میں اقوام متحدہ کے دفتر کے باہر دھرنا دیا اور سیکریٹری جنرل سے مطالبہ کیا کہ وہ 34 دنوں سے بھوک ہڑتال کرنے والے اسیران کی مدد کے لئے مداخلت کریں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق شرکاء نے ہائی کمشنر آفس برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر پاسکل سوٹو کو ایک خط دیا ہے جو کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے لئے لکھا گیا ہے۔اپنے خط میں بھوک ہڑتالی اسیران کے خاندانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینی اسیران کے حالات پر نظر رکھنے کے لئے ایک بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کو بھیجا جائے تاکہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی پابندی پر مجبور کیا جائے۔
خط میں مزید مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیلی جیلوں میں میڈیکل ٹیمیں بھی بھیجی جائیں تاکہ وہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی اسیران کی حالت پر نظر رکھ سکیں۔
اس موقع پر ہائی کمشنر آفس برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر نے عہد کیا کہ وہ یہ خط اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل تک پہنچائیں گے۔
اسرائیلی جیلوں میں قید 300 سے زائد اسیران نے بھوک ہڑتال کا اعلان کررکھا ہے اور ان میں 120 اسیران وہ بھی ہیں جو کہ 44 دنوں سے بغیر کچھ کھائے اسرائیلی انتظامی حراست کی پالیسی کے خلاف ہڑتال کررہے ہیں۔
صحت میں خرابی کے باوجود فلسطینی اسیران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ہڑتال اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک انتظامی حراست کی پالیسی کو ختم اور اسیران کی صورتحال کو بہتر نہیں بنا دیا جاتا ہے۔
