مغربی کنارے میں اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی اسیران کی رہائی کے لیے تحریک زور پکڑتی جا رہی ہے۔ لگاتار بیس روز سے صہیونی عقوبت خانوںمیں بھوک ہڑتال کرنے والی اسیرہ ھناء شلبی اور دیگر اسیران سے یک جہتی میں ریڈ کراس کے ہیڈ کوارٹر کے سامنے فلسطینیوں کی بڑی تعداد نے دھرنا دیا۔
اسیران کی رہائی کی خاطر البیرہ میں لگائے گئے اس احتجاجی کیمپ میں فلسطینی اراکین پارلیمان نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے فلسطینی اسیران کی رہائی کے لیے دنیا بھر میں کانفرنسیں منعقد کرنے کی تحریک شروع کرنے کا مطالبہ کیا تا کہ اس ضمن میں اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔ اراکین پارلیمان کا کہنا تھا کہ انتظامی حراست غیر قانونی ہے۔
اراکین پارلیمان نے استفسار کیا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی اراکین پارلیمان اور دیگر افراد کی محض انتظامی حراست پر دنیا بھرکی انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں۔؟ اسی طرح بغیر کسی وجہ کے ھناء الشلبی جیسی فلسطینی اسیرہ، جو بیس روز سے کچھ کھائے بغیر احتجاج پر ہیں، کی حالت پر خواتین کےحقوق کی تنظیمیں کہاں غائب ہیں؟ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ھناء الشلبی فلسطینی اسیران کے حقوق کے لیے اپنے خالی پیٹ سے جدوجہد کر رہی تھیں لیکن کسی عالمی تنظیم کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
اس موقع پر فلسطینی اراکین پارلیمان نے عرب لیگ سے فلسطینی اسیران کی رہائی اور تمام بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے اجلاس منعقد کرنے کی اپیل کی۔ اسیران کی رہائی کے لیے اس احتجاجی دھرنے میں شرکت کرنے والے اراکین پارلیمان میں خواتین کی سابق وزیر ڈاکٹر مریم صالح، نابلس سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمان منی منصور، رام اللہ کے احمد مبارک اور القدس سے بے دخل کیے گئے احمدعطون شامل تھے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

