فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے قطر کے وفد کے ہمراہ غزہ کی علاقے خان یونس میں ابو طیر کےاہل خانہ سے ملاقات کی۔ اسرائیلی محاصرے کے سبب غزہ میں ایندھن کی کمی کے باعث پاور پلانٹس بند ہونے کی وجہ سے جاری بجلی کی بندش کے سبب اس خاندان کے تین بچے موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔
اسماعیل ھنیہ نے بجلی کے اس بحران کے سبب فلسطینیوں اور بالخصوص ابو طیر خاندان کے افراد کے ساتھ اظہار یک جہتی کی اور ان تکالیف کو کم کرنے کے لیے اقدامات کا اعلان کیا۔
وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسماعیل ھنیہ نے ان بچوں کے والد کے لیے وظیفہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس گھر کی تعمیر نو کے لیے پانچ سو ڈالرز دینے اور اس خاندان کی کفالت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اسماعیل ھنیہ نے گھر کے شہید ہونے والے بچوں کو محاصرہ کے شہداء کے اعزاز سے بھی نوازا ہے۔
اس موقع پر قطر کے سفیر نے بھی خاندان کو تین ہزار ڈالرز کا ہدیہ دیا تاکہ وہ اپنے گھر کی دوسری منزل کی تعمیر کا آغاز کر سکے۔
چھ سال سے جاری اسرائیلی محاصرے میں غزہ میں آئل کے داخلے پر پابندی ہے جس کے باعث غزہ میں تیل کی قلت کی وجہ سے واحد بجلی گھر بند رہتا ہے۔ طویل لوڈشیڈنگ سے بچنے کے لیے اہل غزہ اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے گیس کو اسمگل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
اسی طرح کی ایک کارروائی کے دوران گیس کو آگ لگنے سے تین بچے جاں بحق جبکہ دو شدید زخمی ہو گئے تھے۔ شہید ہونے والے بچوں میں قاسم کی عمر پانچ سال، ماریا کی سات سال اور وسیم کی گیارہ سال تھی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
