فلسطین کی دو بڑی سیاسی، دینی اور عسکری تنظیموں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور اسلامی جہاد نے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم اور مضبوط کرنے اور مل کر وطن کی آزادی کے لیے جدو جہد تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ نے حماس اور اسلامی جہاد دونوں کی قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ باہمی تعلق کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے اور مل کر جدو جہد کرنے کے لیے جامع مذاکرات شروع کریں۔ دوسری جانب اسلامی جہاد کے رہ نما محمد الہندی کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے ساتھ اندرون ملک اور فلسطین سے باہر ہر جگہ فوری اور دو رس مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسلامی جہاد کے رہ نماؤں نے غزہ میں فلسطینی وزیراعظم اسماعیل ھنیہ سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں دونوں جماعتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ تمام قومی معاملات میں حقیقی شراکت کے لیے اتحاد کی کوششیں تیز کر دیں۔
بیان میں کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں اسلامی جہاد اور اسماعیل ھنیہ کے درمیان ہونے والی بات چیت میں دونوں جماعتوں کے درمیان پائی جانے والی نظریاتی، عسکری، فکری اور سیاسی قربت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں جماعتوں کے مابین حقیقی شراکت کے قیام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
بیان کے مطابق اسماعیل ھنیہ اور اسلامی جہاد کے وفد کے درمیان ہونے والی بات چیت میں فلسطین کی داخلی صورت حال، فلسطینی سیاسی جماعتوں کے مابین مفاہمت کے لیے جاری مساعی، عرب ممالک میں جاری انقلابات کے تحریکوں اور حماس اور اسلامی جہاد کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر بات کی گئی۔
بعد ازاں اسلامی جہاد کے سیاسی شعبے کے رکن محمد الہندی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حماس اور ان کی جماعت پہلے ہی ایک دوسرے کے قریب ہیں اور قومی ایشوز پر دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے۔ اسلامی جہاد تمام فلسطینی جماعتوں کے درمیان مفاہمت اور اتحاد کو ایک دینی اور قومی فریضہ خیال کرتی ہے۔
الہندی کا کہنا تھا کہ اسلامی جہاد حمامس کی طرح وطن کی آزادی کے لیے مزاحمت پر یقین رکھتی ہے۔ دیگر سیاسی اورعسکری تنظیموں کے ساتھ ہمارے اتحاد کی مساعی کا مقصد بھی قومی حقوق کے حصول کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری مسلم امہ کا مسئلہ ہے۔ فلسطین کی آزادی اور قبلہ اول کی پنجہ یہود سے واگزاری کے کے لیے پوری مسلم امہ میں بیداری کی اشد ضرورت ہے۔ ان کی جماعت اسلامی جہاد فلسطین کی آزادی کے لیے مساعی کے ساتھ بیداری امت کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔

