فلسطینی وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے فلسطینی اتھارٹی اور قابض اسرائیلی حکام کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے منفی اثرات سے خبردار کیا ہے۔
یہ بات انہوں نے فلسطینی قانون ساز کونسل کے خصوصی سیشن کے دوران ایک تقریر میں کرتے ہوئے کہی۔ فلسطینی وزیر اعظم نے فلسطینی اتھارٹی کے چئیرمین محمود عباس اور تحریک فتح پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات روک دیں اور مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کرنے اور فلسطینی اصولوں سے جڑے رہنے کے لئے قومی مفاہمت قائم کرے۔
ھنیہ نے کہا،”مذاکرات کی ٹیبل پر واپسی رام اللہ کی فلسطینی اتھارٹی کی ناکامی اور مایوسی کی مظہر ہے۔” غزہ کے وزیراعظم نے مذاکرات کی بحالی کو تباہ کن انتخاب قرار دیا جو کہ اس سے پہلے بھی بیس سال تک جاری رہ چکا ہے اور اس سے صرف اسرائیل ہی نے فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں فلسطینی تقسیم کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا اور اسے فلسطینی اداروں کی تعمیر نو کی راہ پر ایک اہم قدم قرار دیا۔
اسماعیل ھنیہ نے مصر کی صورتحال پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ تمام فلسطینی مصری عوام کی حمایت کرتے ہیں اور انہوں نے مصر کے معاملات میں فلسطین کی جانب سے کسی قسم کی مداخلت سے انکار کردیا۔
انہوں نے مصری میڈیا کی جانب سے غزہ کو سیناء میں مسلح افراد اور مصری فوج کے درمیان ہونے والے تصادم کے درمیان لانے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ،”میڈیا کی یہ پالیسیاں غزہ اور مزاحمت کو مستقبل میں نشانہ بنانے کی کارروائیوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
