مسئلہ فلسطین پر ماہرانہ رائے رکھنے والے حمادہ فرانہ نے کہا ہے کہ تحریک حماس اور فتح کے درمیان ہونے والے مفاہمتی مذاکرات میں ایک مثبت ماحول میں پیش قدمی ہوئی ہے۔
حمادہ کا کہنا تھا کہ حماس اور فتح ایگزیکیٹو اور قانون سازی کی طاقتوں کو باہمی مشاورت سے باانٹ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایگزیکیٹو طاقت فتح کے رامی حمداللہ کے حوالے کی گئی ہے جبکہ قانون سازی کی ساری باگ دوڑ اسماعیل ھنیہ کے ہاتھ میں سونپی گئی ہے۔حمادہ نے منگل کے روز خبررساں ایجنسی قدس پریس کو بتایا ہے کہ حمداللہ کو حکومت کا سربراہ اور ھنیہ کو فلسطینی قانون ساز کونسل کا سربراہ نامزد کرنے کے بعد متحدہ حکومت کی راہ ہموار ہوگئی ہے اور آنے والے چند دنوں میں باضابطہ طور پر حکومت کے قیام کا اعلان کردیا جائے گا۔
اس کے علاوہ اردن کی جانب سے حماس کو عمان میں دفتر کھولنے کی پیشکش پر بات کرتے ہوئے حمادہ کا کہنا تھا کہ،” ابھی یہ حماس کو اردن میں دفتر کھولنے کی دعوت دینا قبل از وقت ہے۔”
اس موقع پر غزہ کے وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیروں کی نمائندگی کے لئے ہونے والے مفاہمتی مذاکرات میں پیش قدمی ہوئی ہے۔
اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ حمداللہ آنے والی نئی متحدہ حکومت کی سربراہی کریں گے۔ ھنیہ نے رفحت کراسنگ پراجیکٹ کے دوسرے مرحلے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ،” امید ابھی بھی باقی ہے کہ ہمارے مصری بھائی رفح کراسنگ کو کھول دیں گے۔”
دریں اثناء باخبر ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کو بتایا ہے کہ مفاہمتی مذاکرات منگل کے روز تک ختم کرلئے جائینگے اور متحدہ حکومت کا جمعرات کے روز اعلان کردیا جائے گا۔ متحدہ حکومت میں 15 وزراء ہوں گے جو کہ حمداللہ کی سربراہی میں کام کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے کہ یہ فیصلہ مغربی کنارے یا غزہ سے اعلان کیا جائے گا۔
