اسرائیل کی وزارت داخلہ کے سیکیورٹی حکام نے مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے علاقوں میں سرگرم اسلامی تحریک کے ایک اہم رہ نما کے چھ ماہ کے لیے بیت المقدس میں داخلے پرپابندی عاید کردی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین نے’’کیو پریس‘‘ کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل کے داخلی محاذ کے سربراہ جنرل ایال آئزن برگ نے ایک فوجی حکم صادر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسلامی تحریک کے سیاسی شعبے کے رکن اور انٹرنیشنل القدس فائونڈیشن کے سابق ڈائریکٹر خالد زبارقہ کے 09 ستمبر 2015 ء تک بیت المقدس میں داخلہ ممنوع ہے۔ تاہم بیت حنینا کے مقام پرقائم ان کے دفترمیں دانہیں داخلے سے منع نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب اسلامی تحریک نے صہیونی حکومت کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔ ایڈووکیٹ خالد زبارقہ نے بھی اسرائیلی داخلی محاذ کے فیصلے کو غیرمنصفانہ اور نسلی امتیاز کا مظہر قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے انتہا پسند یہودیوں کو تو بیت المقدس اور فلسطین کے تمام علاقوں میں داخلے کی کھلی چھٹی ہے مگر فلسطینی شہریوں پر ناروا پابندیاں عاید کرکے ان سے امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے انہیں بیت المقدس میں داخلے سے روکنے مقصد مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے جاری مساعی کو نقصان پہنچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ماضی میں بھی انہیں اور ان کی جماعت کی قیادت کو قبلہ اول میں داخلے سے روکتا رہا ہے مگر وہ صہیونیوں کی پابندی کو پائوں کی ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
