اقوام متحدہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھوک ہڑتالی اسیرہ ھناء شلبی کا مسئلہ فوری طور پر حل کرے۔ عالمی ادارے امن برائے مشرق وسطیٰ کے مندوب رابرٹ سیری کا کہنا ہے کہ دنیا کا کوئی اصول اور ضابطہ قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کی اجازت نہیں دیتا۔
فلسطینی بھوک ہڑتالی اسیرہ ھناء شلبی گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے بھوک ہڑتال اور تشدد کا سامنا کر رہی ہے۔ اسرائیل نے اسیرہ کے آئینی مطالبات پورے کرنے میں تساہل سے کام لیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یو این مندوب نے ان خیالات کا اظہار نیویارک میں سلامتی کونسل کے بعض اراکین کے سفیروں کے ساتھ بات چیت میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جیلوں میں بڑی تعداد میں انتظامی حراست میں رکھے گئے فلسطینیوں اور ان کی بھوک ہڑتال کا معاملہ نہایت سنجیدہ اور قابل غور ہے۔ عالمی برادری کو بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیران کے معاملے کے حل میں ان کی مدد کرنی چاہیے۔
رابرٹ سیری کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جیل میں بھوک ہڑتالی اسیرہ ھناہ شلبی کا معاملہ پوری دنیا کے سامنےآ چکا ہے۔ اسیرہ نے اسرائیل کی جانب سےمزید چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں رکھے جانے کےخلاف احتجاجا بھوک ہڑتال شروع کی ہے، جس کے بعد اب اس کی زندگی خطرے سے دوچار ہونے والی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی عدالت کی جانب سے ھناء شلبی کی قید کے بارے میں نظرثانی کی درخواست مسترد کیے جانے کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ اسرائیلی حکومت کو ترجیحی بنیادوں پر ھناء کا مسئلہ حل کرنا ہو گا۔
انہوں نےاسرائیل پر زور دیا کہ وہ جیلوں میں بغیر کسی الزام کے فلسطینیوں کو قید رکھنے کا سلسلہ بند کر کے تل ابیب قیدیوں کو عدالتوں میں پیش کرنے اور بے گناہ ثابت ہونے والے اسیران کو رہا کرنے کی پوری ضمانت فراہم کرے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

