مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیل کے "بن گوریون”ہوائی اڈے کے ایک حراستی مرکز میں موجود اطالوی خاتون کا تازہ بیان سامنے آیا ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ اگراسے رہا نہ کیا گیا یا فلسطین سے بے دخلی کے بدلے اسے رہا کرنےکی کوشش کی گئی تو وہ بھوک ہڑتال کردیں گے اور فلسطین سے بے دخلی کا فیصلہ قبول نہیں کریں گی۔
انسانی حقوق کی تنظیم”مرکزاحرار” نے باوثوق ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اطالوی خاتون سماجی کارکن نے فلسطین سے بے دخلی کی اسرائیلی تجویز مسترد کردی ہے اور کہا ہے کہ اس کے ساتھ ناروا سلوک جاری رہا تو وہ بھوک ہڑتال کردیں گی۔
خیال رہے کہ صہیونی فوجیوں نے اطالوی خاتون انسانی حقوق کارکن سامنتھا کو 12 جون بروز جمعہ کو مغربی کنارے کے شہر قلقیلیہ میں کفر قدم کے مقام پر فلسطینیوں کے ایک پرامن جلوس میں شرکت کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔ اس سے چھ گھنٹے تک مغربی کنارے کے ایک فوجی مرکز میں تفتیش کی جاتی رہی جس کے بعد مقبوضہ فلسطین میں قائم اسرائیل کےبین الاقوامی ہوائی اڈے” بن گوریون” کے ایک حراستی مرکز میں منتقل کردیا گیا ہے۔
اطالوی خاتون سماجی کارکن پچھلے ایک سال سے فلسطین میں ہیں اور وہ فلسطینیوں کے اسرائیلی فوج کے مظالم کے خلاف نکالے گئے پرامن جلوسوں میں شرکت بھی کرتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ "یکجہتی برائے آزادی فلسطین” تحریک کی سرگرم کارکن اور صحافی بھی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
