اسرائیلی حکومت نے مصرمیں منتخب صدر ڈاکٹرمحمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد نئی نگراں حکومت اورمصری فوج کے ساتھ نئے انداز میں راہ و رسم بڑھانا شروع کردیے ہیں۔
اسرائیل کے ایک موقراخبار”یدیعوت احرونوت” نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ صہیونی حکومت نے اپنا ایک خصوصی ایلچی قاہرہ روانہ کیا ہے جو وہاں پرآنے والی سیاسی اور حکومتی تبدیلی کے تناظر میں سرحدوں پر مشترکہ سیکیورٹی کنٹرول کے حوالے سے مذاکرات کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق مصرمیں حکومت کی تبدیلی کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیلی حکومت نے اپنا خصوصی نمائدہ روانہ کردیا تھا۔ صہیونی خصوصی نمائندہ مصرکی نگراں قیادت، مسلح افواج کے سربراہ اور سیکیورٹی و انٹیلی جنس کے امورپر تبادلہ خیال کرے گا۔
اخبار کی رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومتی حلقوں کا یہ کہنا ہے کہ سابق معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے دور حکومت میں اسرائیل اور مصر کے درمیان”اچھے” تعلقات قائم رہے ہیں لیکن انہیں "بہترین” دوستانہ مراسم نہیں قرار دیا جا سکتا۔ توقع ہے کہ مصرمیں نئے فوجی انقلاب کے بعد دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئے گی۔
صہیونی اخبارنے مصرکے ایک سیکیورٹی ذریعے کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کی حامی فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” جزیرہ نما سیناء میں اخوان المسلمون کے مسلح جنگجوؤں کو حملوں میں مدد کر سکتی ہے۔ اسی طرح مصر میں سیاسی تبدیلی کے بعد ایران کی جانب سے فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کومصری سرحدی فورسز اور پولیس پر حملوں کے لیے وسائل، افرادی قوت اور اسلحہ فراہم کیا جا سکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
