اردن میں اراکین پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے خلاف مسلح مزاحمت "دہشت گردی” کے زمرے میں نہیں آتی۔ قابض دشمن کےخلاف اپنے حقوق کےحصول کے لیے مسلح جدوجہد جاری رکھے جائے گی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اردنی پارلیمنٹ میں "دہشت گردی” کے خلاف جنگ سے متعلق ایک مسودہ قانون کی منظوری سے قبل بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے ارکان کا کہنا تھا کہ قابض دشمن کے خلاف مسلح جدوجہد کو دہشت گردی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ سنہ 2013ء کے آخر میں پیش کردہ ریاستی سلامتی سے متعلق قانون کو دہشت گردی سے متعلق قوانین سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
ارکان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اردن اور فلسطین کے ایک بڑے حصے پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے۔ اس ناجائز قبضے کےخلاف مسلح جدو جہد آئینی ہے جسے دہشت گردی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
اس موقع پر اردنی وزیراعظم عبداللہ النسور کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور مسلح مزاحمت کی اصطلاحات میں فرق رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریاستی سلامتی کے لے مسلح مزاحمت کو الگ اور دہشت گردی سے متعلق قوانین کو الگ کیا جائے اور مسودہ قانون سے مزاحمت کو دہشت گردی قرار دیے جانے کی اصطلاح ختم کی جائے تاکہ قابض دشمن کےخلاف مزاحمت کو جرم قرار نہ دیا جائے۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے چیئرمین سینٹ عبدالروف الروابدہ کا کہنا تھا کہ "قابض کے خلاف مزاحمت” کی اصطلاح کو دہشت گردی کے ساتھ خلط ملط نہیں کیا جانا چاہیے۔ ریاست کی کسی بھی فوجی عدالت کو دہشت گردی سے متعلق کسی بھی مقدمہ کی سماعت کا اختیار ہونا چاہیے لیکن قابض دشمن کےخلاف مسلح مزاحمت کو مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
