فلسطینی مجاہدین اور مزاحمت کاروں نےغزہ کی پٹی میں قابض صہیونی فوج کے ساتھ مصر کی نگرانی میں فائربندی کا فیصلہ صہیونی دشمن کےمطالبے پر کیا ہے۔
غزہ کی پٹی میں اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے جواب میں مجاہدین نے اپنے مقاصد حاصل کر لیے ہیں۔ مجاہدین نے اسرائیل کو اپنی قیادت پر قاتلانہ حملوں سے روکنے پر مجبور کیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر صلاح الدین بردویل نے اپنےایک بیان میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ فائربندی کا مطالبہ حماس کی جانب سے آیا اور اس میں اسرائیل کی جانب سے کسی قسم کا مطالبہ نہیں تھا وہ سراسر لاعلمی اور جہالت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اسرائیلی جارحیت اور ریاستی دہشتگردی کے تسلسل کے باوجود حماس اور دیگر تمام فلسطینی دھڑوں کی جانب سے صہیونی دشمن کے خلاف ہر محاذ پر کارروائی جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اسرائیل خود ہی مفاہمت کے لیے مصر کے پاس گیا اور مجاہدین کےساتھ فائربندی کے معاہدے کی سفارش حاصل کی۔
عرب خبررساں ایجنسی”قدس پریس” سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطین کے اندر اورباہر بعض حلقے فلسطینی تحریک مزاحمت کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن انہیں منہ کی کھانی پڑے گی۔ حماس اور فلسطینی مزاحمت کاروں کی اسرائیل کے ساتھ جو ڈیل کی ہےاوراس کی پوری قیمت حاصل کی ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے جواب میں فلسطینی مزاحمت کارون نے پوری قوت کے ساتھ لڑائی لڑی ہے اور دشمن کو ناکوں چنے چبوائے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیل نے گذشتہ جمعہ کوغزہ کی پٹی پر بلا اشتعال گولہ باری کا سلسلہ شروع کیا تھا جو مسلسل چار روز تک جاری رہا۔ اس دوران اسرائیل نے مصر کی ثالثی تسلیم کرتے ہوئے فلسطینی مزاحمت کاروں کے ساتھ فائربندی پر آمادگی ظاہرکی تھی، اس پر فلسطین کے اندر سے بعض حلقے یہ تاثر دے رہے تھے کہ مزاحمت کاروں نے اسرائیلی فوج کی جانب سے فائر بندی کی شرائط تسلیم کی ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

