اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے ایک سال سے زیرحراست فلسطینی شہری عزالدین خالد مریحان کو ساڑھے پانچ سال قید اور 2000 شیکل جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر جنین کے رمانہ قصبے کے رہائشی اسیر خالد مریحان کو ایک سال قبل صہیونی فوجیوں پر حملوں کے شبے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ ا سکے خلاف ایک سال تک مقدمہ کی کارروائی جاری رہی۔ گذشتہ روز اسرائیل کی سالم فوجی عدالت نے اسے ساڑھے پانچ سال قید اور دو ہزار شیکل جرمانہ کی سزا کا حکم دیا۔
مریحان کے اہل خانہ نے صہیونی عدالت کے فیصلے کو ظالمانہ اور غیرمنصفانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کسی اسرائیلی عدالت کا نہیں بلکہ صہیونی انٹیلی جنس اداروں کا ہے جو عدالت کے ذریعے فلسطینی نوجوان پر مسلط کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
