فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ دو ریاستی حل کے آپشن پر مضبوطی سے قائم ہیں، ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات ہی ان کی پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح ہے۔
اسرائیلی سیٹلائٹ چینل ٹو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا ’’ہم اسرائیل کی طرف امن کا ہاتھ اب بھی بڑھائے ہوئے ہیں‘‘ اور یہ کہ اسرائیلی وزیر اعظم کے فرسٹ ڈپٹی شاؤل موفاز سے ان کی ملاقات منسوخ نہیں ہوئی، وہ آنے والے مناسب وقت میں ان سے ضرور ملاقات کریں گے۔
اسرائیلی وزیر اعظم سے ملاقات کے متعلق کیے گئے سوال پر محمود عباس کا کہنا تھا کہ وہ اس سے انکار نہیں کر رہے تاہم اس سے قبل اسرائیل کو سنہ 1993ء کے اوسلو معاہدے سے قبل سے زیر حراست 23 فلسطینی اسیران کو رہا کرنا ہوگا۔ محمود عباس نے زور دیا کہ فلسطینی قیادت کسی صورت اسرائیل کے خلاف تیسری مسلح مزاحمت پر متفق نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس سمیت فلسطینی کی تمام جماعتیں قومی اور پرامن مزاحمت پر متفق ہیں۔
