(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے بزرگ رہنما اور سنہ 1948 ء کے دوران اسرائیل کے تسلط میں چلے جانے والے فلسطینی شہروں میں قائم اسلامی تحریک کے سربراہ الشیخ رائد صلاح نے قبلہ اوّل کے دفاع کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی دشمن کی جانب سے سنگین نتایج کی دھمکیاں ہمیں مسجد اقصیٰ کے دفاع سے نہیں رو سکتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق میڈیا کو جاری ایک بیان میں الشیخ رائد صلاح نے کہا کہ ہمیں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھوکی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں ملی ہیں اور مجھ پر مسجد اقصیٰ کے احاطے میں کھڑے ہو کر اسرائیل کے خلاف اشتعال پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے مگر ہم صہیونیوں کی دھمکیوں سے ماضی میں خوف زدہ ہوئے ہیں اور نہ ہی آئندہ ہوں گے۔ قبلہ اوّل کا دفاع ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
الشیخ رائد صلاح کا کہنا تھا کہ دشمن کی جانب سے دھمکی آمیز بیانات اور ڈرانے دھمکانے کی پالیسی نئی نہیں ہے۔ اسرائیل یہ چاہتا ہے کہ فلسطینیوں کو خوف زدہ کرکے انہیں قبلہ اوّل سے دور کردے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ فلسطینی قوم اس وقت اپنا خون اور جانوں کے نذرانے پیش کرکے قبلہ اوّل کے دفاع کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ اس لیے ہم قبلہ اوّل کے خلاف ہونے والی دشمن کی ہر سازش کو بےنقاب کریں گے اور اسے ناکام بنا کر دم لیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے گذشتہ روز کابینہ کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ تحریک اسلامی کے سربراہ الشیخ رائد صلاح فلسطینیوں کو یہودیوں کے مذہبی تہواروں کے موقع پر اسرائیل کے خلاف اکسا رہے ہیں۔ نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ یہ شخص (رائد صلاح) جلتی پر تیل چھڑکنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس لیے ہمیں اس کی زبان بند کرنا ہوگی۔ اس لیے میں وزیرقانون و انصاف کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اسے مسجد اقصیٰ سے دور رکھے۔ ایسے لوگوں کو جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے۔