اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی داخلی سکیورٹی کی خفیہ ایجنسی شاباک کے اہلکاروں نے گزشتہ ماہ درجنوں فلسطینی طلبہ کو یمن کی
یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ کو یمن جانے سے روک دیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ خفیہ معلومات کے مطابق ان طلبہ کو باہر بھیجنا سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔ اسرائیلی ٹی وی چینل ٹو کے مطابق اسرائیلی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی شاباک کے اہلکاروں نے مغربی کنارے بالخصوص الخلیل کے متعدد طلبہ کو یمن جانے سے اس لیے روکا ہے کہ کہیں یہ یمن میں موجود دہشت گرد تنظیم القاعدہ میں نہ مل جائیں جہاں وہ اسرائیلی مفادات کے خلاف کام کرینگے۔ اسرائیلی چینل کے مطابق شاباک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ طلبہ یمن میں سلفی جہادی تنظیموں کے کارکنوں سے رابطے میں ہیں، یہ تنظیمیں دراصل وہاں القاعدہ کے لیے کام کر رہی ہیں۔ اسرائیلی خفیہ ایجنسی نے خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ان طلبہ کو یمن بھیجنے سے ان کے القاعدہ میں شامل ہونے کا بڑا امکان ہے۔ اسرائیلی ٹی وی نے مزید بتایا کہ فلسطینی طلبہ کو القاعدہ تنظیم سے وابستہ ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا تاہم تفتیش کے بعد اس تنظیم سے تعلق ثابت نہ ہونے پر انہیں رہا کر دیا گیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

