اسرائیلی حکومت نےفلسطینی اتھارٹی کی پاور کمپنی کی جانب سے واجبات کی عدم ادائیگی کے بعد مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کی بجلی منقطع کرنے کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب رام اللہ اتھارٹی نے بجلی بحال رکھنے اور واجبات کا مسئلہ حل کرنے کے لیے صہیونی پاور کمپنی کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام پاور کمپنی اسرائیلی پاور کمپنی کی لاکھوں ڈالرز کی مقروض ہے، کئی ماہ کی عدم ادائیگی کے بعد حکومت کی سفارش سے مغربی کنارے کی بجلی منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مذاکرات کے اعلان کے بعد اس دھمکی پر فی الحال عمل درامد روک دیا ہے۔
ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق اگلے دو روز میں فلسطینی اور اسرائیلی پاور کمپنیوں کے ڈائریکٹر حضرات مذاکرات کریں گے اور مسئلے کا حل تلاش کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق رام اللہ اتھارٹی بجلی کے بلوں کی مد میں چارس ملین شیکل یعنی ایک سو ملین ڈالرز کی مقروض ہے۔ ادھر بیت المقدس میں فلسطینی پاور کمپنی کے ڈائریکٹر جلیل العمری کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے انہیں دھمکی دی ہے کہ اگر صہیونی پاور کمپنی کے واجبات ادا نہ کیے گئے تو اسرائیل بیت المقدس اور غرب اردن کی بجلی منطقع کر دے گا۔
