(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکام نے فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہر میں گذشتہ روز مزید متعدد فلسطینی خاندانوں کو نوٹس جاری کیے ہیں کہ وہ اپنے مکانات خود ہی مسمار کردیں ورنہ فوج کارروائی کرکے مکان گرادے گی اور مالکان کو جرمانہ بھی کیے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق کل سوموار کو اسرائیلی فوجیوں نے مشرقی بیت المقدس کے العیساویہ قصبے پر چھاپہ مارا اور شہریوں کے گھروں کی تلاشی لی۔ اس موقع پر فوج کے ہمراہ اسرائیلی بلدیہ کے اہلکار بھی موجود تھے جنہوں نے متعدد فلسطینی شہریوں کو نوٹس جاری کیے کہ انہوں نے حکومت کی اجازت کے بغیر مکانات تعمیر کررکھے ہیں اس لیے انہیں فوری طورپر گرا دیا جائے۔رپورٹ کے مطابق صہیونی انتظامیہ کی جانب سے حمائل العرب کالونی کے رہائشی فاید العیساوی کو نوٹس جاری کیا کہ وہ اپنا سنہ 2001 ء کوبنا مکان مسمار کردے کیونکہ انہوں نے یہ مکان اسرائیلی بلدیہ کی اجازت کے بغیر تعمیر کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ فادی العیساوی کے مکان میں تین الگ الگ رہائشی فلیٹ ہیں جن میں آٹھ افراد رہتے ہیں۔ یہ مکان انہوں نے سنہ 2001 ء میں اپنی ذاتی اراضی پر تعمیر کیا تھا مگر صہیونی انتظامیہ اسے تجاوزات قرار دے کر مسمار کرنے پر مصر ہے۔ فادی کا کہناہے کہ انہوں نے یہ مکان سنہ 2006 ء میں مکمل کیا تھا جس پر 75 ہزار شیکل سے زیادہ کے اخراجات آئے تھے۔
ادھر بیت المقدس کی المدارس کالونی میں بھی اسرائیلی فوجیوں نے محمود داؤد نامی شہری کو چار منزلہ مکان مسمار کرنے کا نوٹس جاری کیا۔ صہیونی حکومت کی جانب سے داود سے کہا گیا ہے کہ وہ جلد از جلد اپنا مکان مسمار کردے ورنہ فوج کارروائی کرکے مکان بھی مسمار کرے گی اور اسے 1 لاکھ شیکل جرمانہ بھی کیا جائے گا۔
