اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے ترجمان فوزی برھوم کا کہنا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے اسرائیل کے لئے 480 ملین ڈالر مالیت کی فوجی امداد دراصل بالواسطہ طور پر فلسطینیوں کے قتل میں معاونت کا مظہر ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے بیان میں فوزی برھوم نے مزید کہا کہ امریکا کو صہیونی حکومت کے لئے اس امداد سے فوری دست کشی اختیار کرنی چاہے۔ نیز اسرائیلی حمایت سے فوری کنارہ کشی اختیار کی جائے۔ امریکا کو اپنے ماضی سے سبق حاصل کرنا چاہئے کیونکہ واشنگٹن کی دوغلی پالیسی نے امریکی عوام کی ساکھ کے فلسطینی عوام کے مفاد کو بھی بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ ایسی پالیسیوں نے خطے کے عوام کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عرب انقلابات کا منطقی تقاضہ ہے کہ جمہوریت کے ثمرات سے مستفید ہونے والے ملک فلسطینیوں کو امریکا اور اسرائیل کی منظم دہشت گردی سے نجات دلانے کی خاطر مشترکہ نیٹ ورک قائم کریں۔ سن 2013 کے امریکی بجٹ میں اسرائیل کے لئے 480 ملین ڈالرز مالیت کی امداد مختص کی گئی ہے۔ یہ رقم اسرائیل کے میزائل شکن نظام بالخصوص ‘آئرن ڈوم’ میں بڑھوتری کے لئے فراہم کی جائے گی۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
