اسرائیلی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ پانچ سال کے تعطل کے بعد راست مذاکرات کی بحالی کے دوران ہی مقبوضہ بیت المقدس میں نئی یہودی کالونیاں قائم کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔
اسرائیل کے ایک عبرانی اخبار”ہارٹز” نے اپنی رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ صہیونی حکمراں اتحاد میں شامل”جیوش ہوم” نامی انتہا پسند جماعت سے وابستہ وزیراقتصادیات نفتالی بینٹ کا کہنا ہے کہ حکومت بیت المقدس میں پیش آئند چند ایام میں یہودی بستیوں کی تعمیرکا ایک نیا منصوبہ سامنے لا رہی ہے۔
اپنے ایک بیان میں اسرائیلی وزیرکا کہنا ہے کہ "ہم مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کا عمل جاری رکھیں گے”۔ مسٹر نفتالی نے مزید کہا کہ ان کی جماعت "جیوش ہوم” مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے میں یہودیوں بستیوں کی تعمیر روکے جانے کے کسی حکومتی فیصلے کی حمایت نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ بیت المقدس میں کئی مقامات پر یہودی بستیوں کی تعمیر پرغور کیا جا رہا ہے۔ جلد ہی مجوزہ مقامات پر کالونیاں تعمیر کرنے کے لیے ٹینڈر طلب کیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آباد کاری کے نئے صہیونی منصوبے ایک ایسے وقت میں سامنے آرہے ہیں جب امریکا کی سرپرستی میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان نام نہاد امن مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔ گوکہ اب کی بار ان مذاکرات میں مقبوضہ علاقوں میں یہودی آباد کاری روکے جانے کا کوئی مطالبہ شامل نہیں لیکن عالمی سطح پر اسرائیل پریہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کے لیے دباؤ ضرور ڈالا جا رہا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
