اسرائیل کےعبرانی اخبار’’ہارٹز‘‘ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ فوج کی سینٹرل کمانڈ پچھلے کئی ماہ سے مغربی کنارے کے فلسطینیوں کےخلاف فوج داری قانون کے نفاذ کے بارے میں غور کررہی تھی۔ فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ نے اب قانون کے باضابطہ نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ رواں سال جون سے فلسطینیوں کے ساتھ اسی قانون کے تحت نمٹا جائے گا۔
خیال رہے کہ سنہ 1967 ء کے بعد سے اسرائیلی عدالتوں میں فلسطینی شہریوں کے خلاف فیصلے برطانوی، اردنی اور صہیونی ملٹری قوانین کے تحت ہوتے رہے ہیں۔
ادھر اسرائیلی وزارت قانون کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں فوج داری قانون کے نفاذ سے امن وامان کی صورت حال میں بہتری آئے گی مگر اس قانون کے نفاذ کے بعد تل ابیب کو غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کیے جانے کے الزامات کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
