اسرائیلی حکام نے آٓئندہ جمعرات اورجمعہ کے ایام میں مقبوضہ مغربی کنارے میں مسلمانوں کی تاریخی جامع مسجد ابراہیمی کو یہودیوں کے عبرانی سال کی تقریبات کےسلسلے میں بند رکھنےکا فیصلہ کیا ہے۔ ان دو ایام میں فلسطینی شہری جامع مسجد ابراہیمی نہ تونماز ادا کر سکیں گے اور نہ مسجدمیں اذان دینے کی اجازت ہو گی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی حکام نے مسجد ابراہیمی کی دیکھ بھال کے ذمہ دار ادارے محکمہ اوقاف کو اطلاع دی ہے کہ وہ جمعرات اور جمعہ کے ایام میں مسجد ابراہیمی میں صرف یہودیوں کو داخلے کی اجازت دیں گے۔ ان دنوں میں مسلمانوں کو وہاں عبادت کے لیے آنے کی اجازت نہیں ہو گی کیونکہ مسلمانوں اور فلسطینیوں کی آمد سے یہودی آباد کاروں کی رسومات میں خلل پڑنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے سیکیورٹی کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
مسجد ابراہیمی کی دیکھ بھال پر مامور کمیٹی کے چیئرمین حجازی ابو سینینہ نے میڈیا کو بتایا کہ یہودی حکومت کی جانب سےعبرانی سال کی تقریبات کے حوالے سے مسجد ابراہیمی پر پابندی قطعی طور پر غیر قانونی ہے کیونکہ یہ مسجد ہے کوئی یہودی معبد نہیں ہے کہ یہودیوں کو اس میں عبادت کی اجازت دی جائے اور مسلمانوں کوان کی عبادت گاہ سےروکا جائے۔
ابو سینینہ کا کہنا تھا کہ عبرانی سال نو کی تقریبات محض ایک بہانہ ہے دراصل یہودی آباد کاروں کو مسجد ابراہیمی میں داخلے کا موقع فراہم کرکے اس مقدس مقام پر مستقل قبضے کی راہ فراہم کرنا ہے۔
خیال رہے کہ مغربی کنارے میں جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی یادگار جامع مسجد میں اذان پر پابندی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ گذشتہ مہینے کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے مسجد میں 58 مرتبہ اذان دینے پر پابندی عائد کی تھی۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
