اقوام متحدہ کے زیرانتظام انسانی حقوق کی صورت حال پر نگاہ رکھنے والے ادارے”اوچا” نےانکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے بغیر اجازت کے مکانات کی تعمیر کی آڑ میں مقبوضہ بیت المقدس سے 93 ہزار فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا ایک منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینی اورغیریہودی عرب باشندوں کےمکانات کی چھان بین کر رہے ہیں۔ ایسے فلسطینیوں کے مکانات کی ایک فہرست تیار کی جا رہی ہے جنکی تعمیر کے وقت اسرائیلی حکام سے اجازت حاصل نہیں کی گئی۔ اسرائیل ان تمام فلسطینیوں کو جنہوں نے مکانات کی تعمیر کے وقت کسی قسم کی اجازت حاصل نہیں کی انہیں بیت المقدس سے نکال باہر کرنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابض صہیونی حکومت نے گذشتہ برس مقبوضہ بیت المقدس سے 11 سو فلسطینیوں کو بیت المقدس سےنکال باہر کیا۔ ان میں نصف تعداد کم عمربچوں پر مشتمل تھی۔ ان شہریوں کی القدس بدری کا موجب بھی ان کے”غیرقانونی” طور پر تعمیر کردہ مکانات بنے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی حکومت کی اجازت کے تحت مغربی کنارے میں گذشتہ برس ایک مسجد سمیت 622 مکانات کو غیرقانونی قرار دے کر انہیں مسمار کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی تنظیم کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت کےمنصوبے کےتحت بیت المقدس میں فلسطینیوں کے قبضے میں صرف 13 فی صد رقبہ ہو گا، انہیں اس سے زیادہ رقبہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جب کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران بیت المقدس کا پینتیس فیصد رقبہ یہودی کالونیوں میں ضم کرنے کے لیے فلسطینیوں سے غصب کیا گیا ہے۔

