اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کی جانب سے فلسطین میں یہودی بستیوں کوغیرقانونی قرار دینے پر صہیونی حکومت سخت برہم ہے۔ اس اقدام کے بعد اسرائیل نے عالمی انسانی حقوق کونسل سے اپنا سفیر واپس بلانے پر غور شروع کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی حکام کی جانب سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی میں بعض دیگرممالک کے سفیروں کو نکالنے کے لیے بھی لابنگ ہو رہی ہے۔ سب سے زیادہ زور امریکا پر دیا جا رہا ہے کہ وہ بھی جنیوا میں قائم انسانی حقوق کمیٹی کے دفترسے اپنا سفیر واپس بلا لے۔
خیال رہے کہ جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی تنظیم برائے انسانی حقوق نے فلسطین میں اسرائیل کی قائم کردہ یہودی بستیوں کو غیرآئینی اور عالمی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا جس کے بعد اسرائیل کی جانب سے اس پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوجی ریڈیو نے ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ صہیونی وزیرخارجہ آوی گیڈورلائبرمین انسانی حقوق کونسل سے سفیروں کی واپسی کی تجویزسنجیدگی سے غور کر رہے ہیں اس کے علاوہ وہ امریکا کوبھی قائل کریں گے کہ وہ بھی اپنا سفیر واپس بلا لے۔
خیال رہے کہ جمعہ کی شب صہیونی وزیرخارجہ آوی گیڈورلائبرمین کا کہنا تھا کہ انہیں انسانی حقوق کونسل کی جانب سے منظور کردہ اس قرارداد سے سخت تشویش ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطین میں یہودی بستیوں کی تعمیر سے فلسطینیوں کی زندگی سنگین نوعیت کی مشکلات سےدوچار ہو گئی ہے۔ اسرائیلی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ وہ انسانی حقوق کونسل کے اقدام کے ردعمل میں اپنا فیصلہ جلد سنائیں گے تاہم انہوں نے ردعمل میں فیصلے کی تفصیلات نہیں بتائیں۔
خیال رہے کہ جنیوا میں جمعہ کے روز انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں یہودی بستیوں کی تعمیر کی قرارداد پر ووٹنگ کے دوران چھیاسٹھ ممبر ممالک نے حمایت کی تھی جب کہ صرف امریکا نے اس کی مخالفت کی تھی اور دس ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

