اقصی فاؤنڈیشن برائے وقف و آثار قدیمہ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا کہ اسرائیل نے القدس کی اولڈ میونسپلٹی ، مسجد اقصی کے ساتھ متصل علاقے اور
براق صحن کے علاقے کو یہودیانے کے بڑے منصوبے پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ اولڈ میونسپلٹی کو اسلامی شناخت سے محروم کرنے کا سب سے بڑا منصوبہ شمار کیا جا رہا ہے۔اقصی وقف فاؤنڈیشن نے بتایا کہ اسرائیل جدت کے نام پر میونسپلٹی میں اسلامی اور مسیحی تعمیرات میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا خواہاں ہے۔ اس منصوبے کے مطابق یہاں کی تعمیرات کے معیارات کو بدل دیا جائے گا، پروجیکٹ کے مطابق براق صحن کے علاقے میں 600 مربع میٹر توسیع کی جائے گی، اسی طرح اس صحن کے نیچے مسجد اقصی کی دیوار سے متصل ایک انڈر گراؤنڈ احاطہ تعمیر کریگا۔اقصی فاؤنڈیشن نے خبردار کیا کہ اس منصوبے کے تحت مسجد اقصی اور اس کے اطراف بابرکت القدس شریف کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی حکام نے القدس کی ترقی کے نام پر اس کی اسلامی اور مسیحی علامات کو مسخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے مکمل ہونے کے بعد اولڈ میونسپلٹی کے سماجی چہرے میں بڑی تبدیلی آ جائے گی۔اقصی فاؤنڈیشن نے خبر دار کیا کہ اسرائیل کا حالیہ منصوبہ 1977 سے لیکر اب تک القدس میں تبدیلیوں کا سب سے بڑا پروگرام ہے، قبل ازیں اس سال اسرائیل نے مراکشی کالونی کی جگہ براق صحن تعمیر کیا تھا، اس کالونی کو سن 1967 میں منہدم کر دیا گیا تھا۔ اب اس حالیہ منصوبے اسی صحن میں 600 مربع میٹر کی توسیع کی جائے گی ۔
