اسرائیلی حکومت نے "ڈین این اے” ٹیسٹ کرانے اور دیگرلوازمات مکمل کرنے کے بعد اپنے ہاں رکھے گئے چھ فلسطینی شہداء کےجسد خاکی ان کے لواحقین کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
فلسطینی شہداء کی میتیں واپس لینے کے لیے قائم قومی کمیٹی کے نگراں سالم خلہ نے خبر رساں ایجنسی” قدس پریس” کو بتایا کہ اسرائیلی سپریم کورٹ نے ان کی درخواست پر چھ فلسطینی شہداء کے ڈی این اے کرانے کے بعد ان کی میتیں ورثاء کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ تمام میتیں کئی سال سے اسرائیل کے پاس "ڈیجیٹل قبرستان” میں موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض میتوں کے ڈین این اے مکمل کرلیے گئے ہیں باقی میتوں کی شناخت کے بعد انہیں پانچ اور چھ نومبر کو ان کے ورثاء کے حوالے کیا جائے گا۔سالم خلہ نے بتایا کہ ان کی مساعی سے اسرائیلی عدالت الخلیل کے شہداء احمد عائد الفقیہ، محمد مصطفیٰ شادہین، بیت لحم کی خاتون شہیدہ آیات الاخرس، طوباس کے سامی بشارات، جنین کے مجدی خنفر اور نابلس کے احمد یاسر طالب کو ان کے ورثاء کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
