عالمی یک جہتی ایسوسی ایشن برائے حقوق انسانی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مارچ کے مہینے میں سات فلسطینی خواتین کو پابند سلاسل کیا۔ اس مہینے اسرائیل نے درجنوں بچوں سمیت مزید 300 فلسطینیوں کو حراست میں لیا۔
عالمی ایسوسی ایشن کے مطابق گرفتار کی جانے والی فلسطینی اسیرات میں دیالا مصطفی زرہ، چھبیس سالہ، کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے اسیر بھائی محمد مصطفی کو مل کر واپس آرہی تھی، ان کے بھائی کو سنہ 2003ء سے ریمون جیل میں رکھا گیا ہے۔ یسری عادل قعدان، تیس سالہ، کو بھی اپنے اسیر بھائی سے ملاقات کے بعد جیل سے ہی حراست میں لے لیا گیا۔ تیس سالہ منال نواف الجدع کو نابلس میں یہودی بستی عمنوئیل کے قریب سے گرفتار کیا گیا ان کا تعلق گاؤں حبلہ سے تھا۔
طولکرم کے قریبی نورشمس کیمپ سے ام متعصم اغوا کیا گئیں۔ ان کے شوہر تیسیر جابر پہلے ہی اسرائیلی قید میں ہیں۔ ستائیس سالہ ایناس علی محمود السعید کو الخلیل کے قریبی علاقے الرمیدہ سے اغوا کیا گیا، ان کی گرفتاری کے دوران اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں نے ان کے تین سالہ بچے پر بھی حملہ کردیا۔
نابلس سے امانی الخندقجی کو گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح الخلیل سے پچاس سالہ صفیہ محد شکری جابر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے اسیر بھائی نور جابر سے ملاقات کر رہی تھیں۔
ان سات اسیرات کے علاوہ صہیونی حکام نے اس سے قبل بھبی متعدد فلسطینی خواتین کو پابند سلاسل رکھا ہوا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

