اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی فوج نے فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں کو روکنے کے لیے بنائے گئے اپنے انتہائی مہنگے میزائل شکن پروگرام ’’آئرن ڈوم‘‘ کو بند کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک راکٹ کو روکنے کے لیے چالیس ہزار ڈالرز سے زائد اخراجات اٹھانے والا یہ نظام اپنےمقاصد میں بری طرح ناکام رہا ہے۔
کثیر الاشاعات عبرانی روزنامے ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نےاتوارکے روز شائع اپنی خبر میں بتایا کہ اسرائیلی فوج کی اعلی قیادت نے امریکا کےخصوصی تعاون سے قائم کیے گئے اینٹی میزائل سسٹم کو انتہائی مہنگے ہونے کے سبب مکمل طور پر منجمد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے ساتھ نصب اس سسٹم میں شارٹ رینج میزائلوں کو گرانے کے لیے قلیل تعداد میں بیٹریاں نصب کی تھیں جس کا مقصدغزہ کی پٹی سے سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں پر برسائے جانے والے راکٹوں سے دفاع تھا- تاہم مختلف اسرائیلی عسکری ماہرین کے مطابق یہ سسٹم اپنے مقصد میں بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے میزائل شکن سسٹم کو بند کرنےکا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب صہیونی پارلیمان (کنیسٹ) میں اس بات کا اقرار کیا گیا ہے کہ صہیونی وزارت دفاع کا بجٹ اپنی بلند ترین سطح یعنی 15.8 ملین ڈالرزتک پہنچ چکا ہے۔

