مسجد اقصی میں موجود مخطوطات اور دیگر آثار قدیمہ کی حفاظت کے لیے قائم یونٹ کے سربراہ ناجح بکیرات کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ہفتہ کے روز مسجد اقصی کے اطراف اپنی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کی نفری میں اضافہ کرد یا ہے۔
مسجد اقصی کے مراکشی دروازے کے باہر صہیونی اہلکاروں کی بڑی تعداد اتوار کے روز نمازیوں کو مسجد اقصی میں داخل ہونے سے روکے گی۔ خیال رہےکہ اسرائیلی حکمران جماعت لیکود پارٹی نے کل بروز اتوار مسجد اقصی پر دھاوا بولنے کا اعلان کر رکھا ہے۔
لیکود پارٹی کے انتہاء پسند رہنماؤں کی ترغیب پر ہزاروں متشدد یہودی آباد کار کل مسجد اقصی آ کر قبلہ اول کو گرا کر اس کی جگہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کی مہم کا آغاز کریں گے۔ اس موقع پر فلسطینی قیادت نے بھی مسلمان نمازیوں سے بڑھ چڑھ کر اپنے قبل اول میں آنے کی اپیل کر رکھی ہے۔
بکیرات نے فلسطینی خبر رساں ایجنسی قدس پریس کو بتایا کہ اسرائیلی قائدین اور یہودی آباد کاروں کی حفاظت اور مسلمانوں کو مسجد اقصی میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے اسرائیلی پولیس اور فوجیوں کی بڑی تعداد نے القدس کی اولڈ میونسپلٹی میں جمع ہونا شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی کل نماز فجر میں مسلمانوں کی بڑی تعداد کو مسجد میں داخل ہونے سے روکیں گے۔ یہ نمازی اپنے محبوب قائدین کی اپیل پر مسجد اقصی میں نماز کی ادائیگی کے لیے آئیں گے۔
بکیرات نے بتایا کہ لیکود پارٹی کے انتہاء پسند لیڈران کی جانب سے تلمودی عبادات کی ادائیگی کے لیے مسجد اقصی پر حملے کی اپیل نے واضح کر دیا ہے کہ صہیونی حکومت نے باقاعدہ سرکاری طور پر مسلمانوں کے مقدس مقامات پر حملوں کاسلسلہ شروع کر دیا ہے۔
مسجد اقصی میں قائم آثار قدیمہ کے یونٹ کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل سنہ 2000ء سے القدس کی اسلامی علامات کو تیزی سے ختم کرنے کے مشن پر گامزن ہے۔ اس دوران صہیونی حکومت متعدد مرتبہ سرکاری سرپرستی میں مسجد اقصی پر دھاوا بولنے کی اپیلیں کر چکی ہے۔
فلسطینی رہنما بکیرات نے فلسطین بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ ان کے اس مقدس مقام کو کل صہیونی حملہ آوروں سے شدید خطرات لاحق ہونگے۔اپنے قبلہ اول اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرے مقدس ترین مقام کی حفاظت کے لیے تمام مسلمان جوق در جوق مسجد کا رخ کریں تاکہ ھیکل سلیمانی تعمیر کرنے کےصہیونی ناپاک عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔

