صہیونی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں شعفاط فوجی کیمپ کے قریب ملٹری کراسنگ کی توسیع کے لیے فلسطینیوں کی نو ایکڑ اراضی پر قبضہ کرکے وہاں پر بنائی گئی الدجانی خاندان کی دس دکانیں اور دیگر مکانات مسمار کرنے کے احکامات دیے ہیں۔
اراضی کے فلسطینی مالک محمد الدجانی نے "مرکزاطلاعات فلسطین” کو بتایا کہ صہیونی حکام نے انہیں تین اکتوبر تک اراضی پر بنائی گئی دکانیں اور مکانات مسمار کرکے ان کا ملبہ وہاں سے ہٹانے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
الدجانی کا کہنا تھا کہ ایک جانب صہیونی فوج نے ان کی اراضی پر قبضہ کرکے ان سے چھین لیا ہے اور دوسری جانب صہیونی ضلعی حکومت کے اہلکاروں نے ان سے”ارنونا” نام کے پراپرٹی ٹیکس کی مد میں 17 لاکھ شیکل کی رقم ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مظلوم فلسطینی محمد الدجانی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مکان اور اراضی کا کوئی متبادل قبول نہیں کریں گے۔ یہاں پر بنائی گئی بیشتر عمارتیں آج کی نہیں بلکہ پچاس سال قبل سنہ 1963 ء کی تعمیر کردہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میری اراضی کا ایک حصہ پہلے بھی صہیونی فوج غصب کرچکی ہے۔ پہلے مرحلے میں سات ایکڑ اراضی غصب کی گئی تھی جبکہ نو ایکڑ مزید چھینی جا رہی ہے۔ غصب کی گئی اراضی کو صہیونی فوج نے دیوار فاصل کی تعمیر، ملٹری راہداری کے لیے بنائی گئی چوکی کی توسیع اور سڑکوں کی توسیع کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
