رپورٹ کے مطابق الشیخ ناجح بکیرات کا کہنا ہے کہ انہیں بغیر کسی پیشگی اطلاع کے بیت المقدس سے چھ ماہ کے لیے نکل جانے کا نوٹس دیا گیا ہے۔ انہوں نے بیت المقدس سے بے دخلی کے صہیونی فیصلے کو ظالمانہ اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔
الشیخ بکیرت کا کہنا تھا کہ وہ بیت المقدس میں چار ہزار سے زائد اوقف املاک کے منتظم ہیں۔ ان میں سے بیشتر وقف املاک مسجد اقصیٰ کے گردو پیش میں واقع ہیں۔ مجھے بیت المقدس سے بغیر کسی وجہ کے بے دخل کرنا قومی املاک کوغصب کرنے کی گھناؤنی سازش ہے۔
الشیخ ناجح بکیرات نے کہا کہ بے دخلی کا صہیونی فیصلہ نہ صرف میرے خلاف ہے بلکہ یہ بیت المقدس کے تمام باشندوں کے خلاف ہے۔ میرے ساتھ یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ اس سے قبل بھی مجھے 13 مرتبہ بیت المقدس سے بے دخل کیا چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صہیونی فوجیوں نے الخلیل شہر میں القشلہ حراستی مرکز میں طلب کیا گیا ہے۔ وہاں پرصہیونی فوجیوں کی جانب سے مجھے بیت المقدس سے بے دخلی کا نوٹس دیا۔
