فلسطین میں سرگرم اپلائیڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ”اریج” نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے گزشتہ چند دہائیوں کے دوران فلسطینیوں کی لاکھوں جائیدادیں ہتھیا لی ہیں جسے معاصر تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ کہا جا سکتا ہے۔
اس ڈکیتی کی جڑیں 1950 تک پھیلی ہوئی ہیں جب اسرائیلی حکومت نے متروکہ املاک کا قانون متعارف کروایا تھا۔ اس قانون کے مطابق وہ فلسطینی جو سن 1948ء کے نکبہ (یعنی اسرائیلی کے قیام کےموقع پرہونے والے مظالم) کے دوران فلسطین سے ہجرت کرگئے تھے، ان کی جائیدادوں پر حکومت کو قبضے کا اختیار دیدیا گیا تھا۔ اس وقت ان جائیدادوں پر غیر حاضرین کی املاک کے محافظ کے دور پر قبضہ کیا گیا تھا، اور اسمیں کسی تصرف یا اس کو بیچنے کی بات نہیں کی گئی تھی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس قانون میں میں بتدریج ترمیم کی جاتی رہی اور پھر ان جائیدادوں اور اراضی کو یہودی بستیوں کے مفادات کےلیے استعمال کیا جانے لگا۔اس قانون میں آخری ترمیم 2004ء میں ہوئی تھی۔ جس کے بعد اسرائیلی لینڈ اتھارٹی کے زیر انتظام نام نہاد ”ڈویلپمنٹ اتھارٹی” کو ان املاک پر اختیارات دیدیے گئے جسکے بعد ان اراضی کا 93 فیصد قبضے میں لے لیا، اس کے بعد ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے یہ زمینیں”عمیدار” اور ”ھمینوتا” جیسی یہودی آباد کاری کی کمپنیوں کو دیدیں، جنہوں نے بالخصوص مقبوضہ بیت المقدس میں ان اراضی کی بنا پر یہودی بستیوں کو توسیع دی۔
اریج ایسوسی ایشن نے بتایا کہ مغربی کنارے اور القدس میں اس قانون کا اطلاق کرنا صرف فلسطینی جائیدادوں پر قبضہ کرنے کا اوچھا ہتھکنڈا
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
